.

امریکی "سفارت خانے کی منتقلی" سے قبل اسرائیل میں ہائی الرٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے ہفتے کی شب ایک اعلان میں بتایا ہے کہ وہ غزہ پٹی کے اطراف اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنے جنگجو فوجی یونٹوں کی تعداد کو دو گنا کر دے گی۔ اس بات کا اعلان قابض اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک اخباری بیان میں کیا۔ اس اقدام کا مقصد پیر کے روز امریکی سفارت خانے کے تل ابیب سے بیت المقدس منتقل ہونے کے موقع پر ممکنہ احتجاجی مظاہروں سے نمٹنا ہے۔

مذکورہ فیصلے میں مقبوضہ مشرقی بیت المقدس شامل نہیں ہے جہاں امن و امان کی ذمّے داری اسرائیلی پولیس کے پاس ہے۔

فوجی ترجمان نے مزید بتایا کہ پولیس کے زیر انتظام سرحدی محافظین کے اہل کاروں کو امن برقرار رکھنے اور فوج کے مشن میں مدد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ شام کے مقبوضہ گولان کے علاقے میں کشیدگی کے باوجود وہاں تعینات اسرائیلی فورسز میں اضافے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال تیس مارچ سے غزہ پٹی اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر ہر جمعے کے روز احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ توقع ہے کہ پیر کے روز امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کے موقع پر فلسطینیوں کا احتجاج اپنے عروج پر پہنچ جائے گا۔