.

ایرانی پاسداران انقلاب نے یورپ کو خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد علی جعفری نے دھمکی دی ہے کہ اگر یورپ نے جوہری معاہدے کی خصوصیات سے استفادے کے حوالے سے ایران کو ضمانت نہ دی تو تہران اپنا جوہری پروگرام جاری رکھے گا۔

ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے مطابق اتوار کے روز اپنے خطاب میں جعفری نے باور کرایا کہ "یورپی ممالک بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ وہ امریکی پابندیوں کے سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے ہیں۔ ہم نے یورپیوں کو موقع دیا تاہم ان پر لازم ہے کہ وہ ضمانت دیں۔ البتہ میں اسے خارج از امکان قرار دیتا ہوں کہ وہ ایسا کریں گے۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ داخلی توانائی پر انحصار کر کے جوہری صنعت کا سفر جاری رکھیں"۔

پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے مغربی دنیا کے لیے کشادگی اور جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت کے حوالے سے ایرانی صدر حسن روحانی کی پالیسی پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ "برسوں جاری رہنے والے مذاکرات کے نتیجے میں جوہری معاہدہ سامنے آیا۔ تاہم یہ پابندیوں کو روکنے کے بجائے ایران پر پابندیاں سخت کر دینے کی راہ ہموار کرنے کا سبب بن گیا"۔

گزشتہ چند روز کے دوران ایران کی اُن عسکری دھمکیوں کے لہجے میں نرمی آئی ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ جوہری معاہدے سے امریکا کے دست بردار ہونے کی صورت میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ روحانی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ واشنگٹن کے علاحدہ ہو جانے کے بعد یورپی ممالک کی جانب سے پاسداری کی صورت میں تہران جوہری معاہدے میں باقی رہے گا۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ہفتے کے روز سے کئی بڑے ممالک کا دورہ شروع کیا ہے۔ یہ جوہری معاہدہ بچانے کے لیے تہران کی آخری کوشش ہے۔ ظریف آئندہ ہفتوں کے دوران یورپی ممالک، چین اور روس کے ساتھ جوہری معاہدے کا حصّہ رہنے کے امکان پر بات چیت کریں گے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ وزیر خارجہ جواد ظریف بیجنگ کے بعد روس اور پھر برسلز کا رخ کریں گے جہاں وہ اپنے جرمن، برطانوی اور فرانسیسی ہم منصبوں کے ساتھ جوہری معاہدے کے انجام کو زیر بحث لائیں گے۔