.

لبنان: پارلیمانی انتخابات میں شکست کے بعد وزیراعظم سعد الحریری کا عملہ تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری نے حالیہ عام انتخابات میں اپنی جماعت مستقبل تحریک کی شکست کے بعد اپنے چیف آف اسٹاف سمیت عملہ کو تبدیل کردیا ہے۔

مستقبل تحریک گذشتہ ہفتے منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں ایک تہائی سے زیادہ نشستیں ہار گئی ہے اور اس کے امیدوار صرف 20نشستوں پر کامیاب ہوسکے ہیں ۔2009ء میں منعقدہ عام انتخابات میں مستقبل تحریک نے پارلیمان کی 128 میں سے 33 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔

سعد الحریری نے انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد تقریر میں کہا تھا کہ ان کی جماعت بہتر نتیجے کی توقع کررہی تھی لیکن اس نے جس انداز میں مہم چلائی ہے،اس میں کچھ سقم تھے اور اس کے ذمے دار و ں کا تعیّن کیا جائے گا۔

سعد الحریری کے دفتر نے ہفتے کی شب ان کے چیف آف اسٹاف نادر الحریری کے استعفے کا اعلان کیا ہے۔ وہ ان کے کزن ہیں ۔ان کی جگہ محمد منیمن کو عارضی طور پر سعد الحریری کا چیف آف اسٹاف مقرر کیا گیا ہے۔

عام انتخابات میں شکست کے باوجود سعد الحریری آیندہ حکومت میں بھی وزیراعظم کےمضبوط امیدوار ہیں کیونکہ پارلیمان میں ان کی قیادت میں سُنی مسلم بلاک نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔

لبنان میں مروج شراکت ِاقتدار کے فارمولے تحت وزیراعظم کا عہدہ سنی مسلم لیڈر کے لیے مختص ہے۔

ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور اس کے پاس ہتھیار رکھنے کے حامی دھڑوں اور افراد نے گذشتہ اتوار کو منعقدہ انتخابات میں نصف سے زیادہ نشستیں جیت لی تھیں ۔واضح رہے کہ حزب اللہ کے ہتھیار لبنان میں گذشتہ کئی برسوں سے باعث نزاع ہیں اور سعد الحریری لبنانی فوج کے سوا کسی مسلح گروپ یا ملیشیا کے پاس ہتھیار رکھنے کے مخالف ہیں ۔

حزب اللہ مخالف لبنانی فورسز کے امیدواروں نے 15 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔لبنان کی موجودہ پارلیمان کی مدت 20 مئی کو ختم ہوگی اور اس کے بعد نئی حکومت کے تشکیل کے لیے مذاکرات اور جوڑ توڑ کا ایک مشکل مرحلہ شروع ہوگا۔