یمن : مسجد کا متنازع خطیب باغی حکومت میں وزیر صحت مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں حوثی ملیشیا نے ہفتے کے روز ایک مسجد کے متنازع خطیب طہ محمد احمد المتوکل کو باغیوں کی (بین الاقوامی سطح پر غیر تسلیم شدہ) حکومت میں وزیر صحت کے منصب پر مقرر کر دیا۔ اس فیصلے کا عوامی حلقوں میں وسیع پیمانے پر مذاق اڑایا جا رہا ہے۔

حوثیوں کے سرغنے کے داماد اور سیاسی کونسل کے نام سے جانی جانے والی اتھارٹی کے سربراہ مہدی المشاط نے سابق وزیر صحت ڈاکٹر محمد سالم بن حفیظ کو اُن کے منصب سے ہٹا دیا۔ ڈاکٹر محمد سالم کا تعلق سابق صدر علی عبداللہ صالح کی سیاسی جماعت جنرل پیپلز کانگریس سے ہے۔

صنعاء میں حوثیوں کے زیر کنٹرول یمنی خبر رساں ایجنسی نے نئے تقرر کے فیصلے کا اعلان کیا۔

حوثیوں کے نزدیکی ذرائع کے مطابق المتوکل حوثیوں کے سرغنے عبدالملک الحوثی کا بہنوئی ہے اور حوثیوں کے فرقے کی ایک مذہبی شخصیت شمار کیا جاتا ہے۔ وہ کئی برسوں تک صنعاء کے علاقے الجراف کی مسجد الحشوش میں خطیب رہا۔ حوثیوں کی بغاوت کے بعد اس نے کئی مساجد میں خطابت کرنا شروع کر دی۔

المتوکل حوثیوں کے شدت پسند رہ نماؤں میں سے ہے۔ وہ کئی متنازع بیان جاری کر چکا ہے۔ ان میں "اقتصادی ہنگامی حالت" کا اعلان، کاروباری شخصیات کی رقوم ضبط کرنا اور حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں نجی سیکٹر کو ریاست کے حق میں قومیانے کا فیصلہ شامل ہے۔

المتوکل اُن حوثی رہ نماؤں میں شامل ہے جنہوں نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں عالمی ادارہ صحت اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے کاموں میں رکاوٹیں ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں