سعودی عرب : لوٹ مار کے گروہ کا سرغنہ 16 برس بعد قصاص کی زد میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں وزارت داخلہ نے بینکوں میں مسلح لوٹ مار کرنے والے گروہ کے سربراہ جميل بن محمد بن علی عسیری کے خلاف قصاص کے عدالتی فیصلے پر عمل درامد کرتے ہوئے اسے اتوار کے روز جدہ میں سزائے موت دے دی۔

تقریبا 16 برس قبل کی وارداتوں پر مبنی کیس کے سلسلے میں جدہ کی عدالت نے مملکت میں لوٹ مار کے مشہور ترین گروہ کے خلاف حتمی فیصلہ سنایا تھا۔ گروہ کے سرغنے کو سزائے موت اور بقیہ تین ارکان کو 25 برس قید کی سزا دی گئی۔ آج سے 16 برس قبل 4 مسلح نقاب پوش افراد نے جدہ میں کنگ فہد روڈ پر واقع الراجحی بینک میں ڈکیتی کے دوران 85 ہزار ریال اور 4 ہزار امریکی ڈالر لوٹ لیے تھے۔ بعد ازاں وہ ایک گاڑی میں سوار ہو کر فرار ہو گئے۔

وزارت داخلہ کے مطابق مجرم جمیل بن محمد بن علی عسیری کے ساتھ تحقیقات کے نتیجے میں اس پر متعلقہ جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا گیا۔ بعد ازاں اسے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے پر اسے تعزیراتی طور پر موت کی سزا سنائی گئی۔ مجرم کے خلاف شرعی سزا کے حوالے سے شاہی فرمان بھی جاری کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق مذکورہ گروہ نے اپنی سرگرمیوں کا سلسلہ روکا نہیں تھا اور کچھ عرصے بعد جدہ میں البوادی کے علاقے میں گروہ نے سعودی فرانسیسی بینک کی شاخ پر دھاوا بولا۔ نقاب پوش مسلح افراد نے فائرنگ کر کے بینک کے عملے کو دہشت زدہ کر دیا اور 1.9 لاکھ ریال کی رقم لے اُڑے۔ سکیورٹی ادارے اس مرتبہ گروہ کی شناخت کرنے میں کامیاب ہو گئے اور انہوں نے 4 افراد (3 سعودی اور ایک مقیم) کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے لوٹی گئی رقم کا کچھ حصّہ اور واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد کر لیا۔ مرکزی ملزم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بینک پر دھاوا بولنے کا عتراف کر لیا اور اسی نے مبقیہ ارکان میں ہتھیاروں کی تقسیم کی۔ عدالتی کارروائی کے دوران واضح ہوا کہ مرکزی ملزم ہی اس منصوبے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ مذکورہ مرکزی ملزم پر دو مقامی بینکوں میں لوٹ مار کے علاوہ ڈکیتی، ذاتی نوعیت کی جعل سازی اور بغیر لائسنس کے ہتھیار رکھنے کے الزامات بھی تھے۔ تاہم بقیہ تین ملزمان پر سابقہ کوئی الزام نہیں تھا۔

ابتدائی طور پر عدالت نے تمام ملزمان کو موت کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں فیصلے میں تبدیلی کرتے ہوئے گروہ کے سرغنے کی سزائے موت برقرار رکھی گئی اور بقیہ تین ملزمان کو 25 برس قید کی سزا دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں