سعودی عرب نے نہتے فلسطینی مظاہرین پراسرائیلی فوج کی فائرنگ کی شدید مذمت کردی

فلسطینی عوام کے نصب العین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جائز حقوق کی بحالی کی حمایت کا اعادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب نے نہتے فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی بحالی اور نصب العین کے حصول کے لیے ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ایک سرکاری ذریعے نے سوموار کو ایک بیان میں غزہ کی پٹی میں غیر مسلح فلسطینیوں کو فائرنگ میں ہدف بنانے پر اسرائیلی فورسز کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

وزارت خارجہ کے ذریعے نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج کے تشدد کو رکوانے اور برادر فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمے داریاں پوری کرے۔وزارت خارجہ نے سعودی مملکت کی جانب سے فلسطینی نصب العین اور اقوام متحدہ کی قرارداد وں اور عرب امن اقدام کے مطابق جائز حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کی حمایت کا ا عادہ کیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے امریکی سفارت خانے کی سوموار کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے خلاف غزہ کی پٹی میں احتجاج کرنے والے ہزاروں فلسطینیوں پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ہے۔اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے باون فلسطینی شہید اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں ۔ان کی شہادت کے بعد مارچ کے بعد سے غزہ کے سرحدی علاقے میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے جان کی بازی ہارنے والے فلسطینیوں کی تعداد نوّے سے متجاوز ہو گئی ہے۔

غزہ کے مکین اسرائیلی فوج کی چیرہ دستیوں اور گذشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے جاری اس فلسطینی علاقے کی ناکا بندی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔

دریں اثناء فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یروشلیم ( مقبوضہ بیت المقدس ) میں امریکی سفارت خانہ کھلنے سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوگا اور تشدد آمیز واقعات کو مہمیز ملے گی۔ترجمان نے کہا کہ اس اقدام کے بعد امریکا اب مشرقِ وسطیٰ میں امن عمل میں ثالث کار کا کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں