عراقی انتخابات کے ابتدائی نتائج کا اعلان، مقتدی الصدر کو بغداد میں برتری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق میں الیکشن کمیشن نے پیر کی صبح پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی جزوی نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ دارالحکومت بغداد میں شیعہ رہ نما مقتدی الصدر کا حمایت یافتہ "سائرون" اتحاد پہلی پوزیشن پر ہے اور اس نے 4.13 لاکھ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ اس کے بعد "الفتح" اتحاد دوسرے اور "اسٹیٹ آف لاء" اتحاد تیسرے نمبر پر ہے۔

سائرون اتحاد کو واسط، المثنی، دیالیٰ اور ذی قار کے صوبوں میں بھی پہلی پوزیشن حاصل ہے۔

الانبار صوبے میں الانبار اتحاد پہلے ، قومی اتحاد دوسرے اور القرار العراقی اتحاد تیسرے نمبر پر ہے۔ یہ نتیجہ صوبے کے 92% پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کی روشنی میں سامنے آیا ہے۔

واسط صوبے میں 97% پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کے بعد سائرون اتحاد کو پہلی پوزیشن کے ساتھ الفتح اتحاد اور النصر اتحاد پر برتری حاصل ہے۔

وزیر اعظم حیدر العبادی کی قیادت میں النصر اتحاد کو عراق کے چھ صوبوں بصرہ، واسط، بابل، كربلاء، ذی قار اور قادسیہ میں تیسری پوزیشن حاصل اور بغداد اور انبار صوبے میں چوتھی پوزیشن حاصل ہوئی ہے۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ منگل کے روز انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔ حالیہ انتخابات میں ووٹروں کی شرکت کا تناسب 44% رہا۔

اس سے قبل "سائرون" اتحاد نے اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ مرحلے کے دوران تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

عراقی انتخابی کمیشن میں ایک خصوصی ذریعے نے اتوار کے روز نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کمیشن نے دارالحکومت بغداد کے درجنوں انتخابی مراکز پر ووٹ شمار کرنے والی مشین اور ہاتھ سے گنتی کا طریقہ استعمال کیا۔ یہ اقدام انتخابات میں شریک کئی سیاسی اتحادوں کی جانب سے دھاندلی اور ووٹنگ مشینوں میں تعطل کی شکایات کے بعد سامنے آیا۔

مذکورہ ذریعے کے مطابق انتخابات میں شریک چھ بڑے سیاسی اتحادوں کی جانب سے سرکاری طور پر مطالبہ کیا گیا کہ متعدد انتخابی مراکز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے۔

اس سے قبل بعض مقامی ذرائع ابلاغ نے انتخابی کمیشن کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا تھا کہ بیرون ملک عراقیوں کے لیے کئی انتخابی رجسٹروں کو چوری کر لیا گیا۔

دوسری جانب شیعہ رہ نما مقتدی الصدر نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں تمام سیاسی بلاکس کو کہا ہے کہ وہ انتخابی کمیشن کے کام میں مداخلت سے دور رہیں تا کہ انتخابی نتائج کے اعلان کا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ عمل میں آ سکے۔ الصدر نے الیکشن کمیشن سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی دباؤ سے گریز کرتے ہوئے انتخابی نتائج کا جلد اعلان کرے۔

یاد رہے کہ ایاد علاوی کی سربراہی میں قومی اتحاد الیکشن کمیشن سے مطالبہ کر چکا ہے کہ انتخابات کے نتائج منسوخ کیے جائیں اور انتخابات کرانے کے لیے مناسب حالات میسر آنے تک ایک نگراں حکومت تشکیل دی جائے۔

دوسری جانب انتخابات میں شریک کرد جماعتوں کے درمیان بھی تنازع بڑھتا جا رہا ہے اور انتخابی نتائج میں جعل سازی اور دھاندلی کے الزامات کا تبادلہ سامنے آیا ہے۔ اس حوالے سے التغییر موومنٹ کے رکن عدنان عثمان نے اتوار کے روز بتایا کہ ان کے سیاسی بلاک نے انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغداد کی جانب سے بھیجی گئ کمیٹی کی تحقیقات اور الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی نتائج کا انتظار ہے۔ عدنان عثمان کے مطابق انتخابی عمل کی عدم درستی کی صورت میں التغییر موومنٹ اور اس کے حامی خاموش نہیں رہیں گے اور انتخابی جعل سازی کے خلاف مظاہروں کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں