امریکا غزہ میں اسرائیلی بربریت کی تحقیقات سے متعلق اقوام متحدہ کے مطالبے کے آڑے آ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پیر کے روز ایک طرف بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کا افتتاح کیا گیا جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا اور ان کے شوہر جیرڈ کُشنر نے بھی شرکت کی۔ دوسری طرف غزہ پٹی میں یومِ نکبہ کی یاد منانے والے مظاہرین کے خلاف اسرائیلی فوج نے ایک اور قتل عام کا ارتکاب کیا۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق پیر کے روز اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں اور فائرنگ کے نتیجے میں 58 فلسطینی شہید ہو گئے جن میں 16 برس سے کم عمر 8 بچّے بھی شامل ہیں۔ طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ 57 افراد اسرائیلی فوج کی براہ راست فائرنگ سے موت کی نیند سلا دیے گئے جب کہ ایک فلسطینی بچّہ آنسو گیس کے سبب دم گھٹنے سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ جھڑپوں اور فائرنگ میں 2400 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے۔

سال 2014ء میں غزہ کی جنگ کے بعد گزشتہ روز پیر کے دن کو اسرائیلی فلسطینی تنازع میں سب سے زیادہ خُون ریز قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکا نے اقوام متحدہ کی جانب سے پیر کے روز فلسطینی اراضی پر ہونے والے خون ریز واقعات کی آزادانہ تحقیقات کرانے کے مطالبے کی راہ میں رکاوٹ ڈال دی۔ سفارت کاروں کے مطابق امریکا نے پیر کی شام سلامتی کونسل کی جانب سے اُس بیان کے جاری ہونے کو روک دیا جس میں اسرائیل اور غزہ پٹی کی سرحد پر پرتشدد اور خون ریز کارروائیوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

بیان کے مسودے میں کہا گیا کہ سلامتی کونسل پر امن احتجاج کا حق استعمال کرنے والے فلسطینی شہریوں کے قتل پر اپنے شدید غصّے اور افسوس کا اظہار کرتی ہے ... اور ذمّے دار عناصر کے محاسبے کو یقینی بنانے کے لیے آزاد اور شفاف تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ سلامتی کونسل تمام فریقوں پر زور دیتی ہے کہ وہ خود پر قابو رکھیں تا کہ جارحیت میں مزید اضافے سے گریز کیا جا سکے۔

بیان کے مسودے میں یہ بھی کہا گیا کہ ایسے تمام فیصلے اور کارروائیاں جن کا مقصد بیت المقدس شہر کا آبادیاتی تناسب تبدیل کرنا ہے، ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ یہ اشارہ امریکا کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کی جانب تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں