ایران کی آبادی کا ایک چوتھائی حصّہ کچّی بستیوں میں رہتا ہے : رکن پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی پارلیمنٹ کے رکن رسول خضری کا کہنا ہے کہ ملک کی 8 کروڑ کی آبادی میں ایک چوتھائی افراد شہروں کے مضافات میں قائم کچّی بستیوں میں رہتے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کی ایجنسی "خانہِ ملّت" کو دیے گئے انٹرویو میں خضری نے بتایا کہ "غیر سرکاری اعداد شمار کے مطابق ملک میں 75 لاکھ بے روزگار افراد ہیں۔ باوجود یہ کہ جن لوگوں کو دن میں صرف دو گھںٹے کا کام ملتا ہے وہ بھی روزگار کے حامل افراد میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بے روزگار افراد کے حوالے سے درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں"۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ کے مطابق بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے طلاق کی شرح میں بھی اضافہ ہو گیا ہے اور ہر 5 میں سے 3 شادیوں کا اختتام طلاق کی صورت میں ہو رہا ہے۔

خضری نے بتایا کہ ملک میں 1.2 کروڑ ایسے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہیں جو معاشی حالات اور روزگار کے موقع نہ ہونے کے سبب شادی کی قدرت نہیں رکھتے۔ انہوں نے اس امر کو ملک میں ایک "ٹائم بم" کے مترادف قرار دیا۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ کے نزدیک ان تمام باتوں کی وجہ غلط پالیسیاں اور ترقیاتی منصوبوں کا فقدان ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق تقریبا 2 کروڑ افراد ایرانی شہروں کے مضافات میں کچی بستیوں میں رہتے ہیں۔

یاد رہے کہ ایران میں رہائش کے بحران کے سبب مختلف شہروں میں بعض غریب شہری سڑکوں پر کارٹنوں کے اندر سونے پر مجبور ہیں جہاں وہ شدید گرمی اور سردی سے کسی طرح بھی محفوظ نہیں ہوتے۔ ان کے علاوہ بہت سے لوگ مکانات کی قیمتوں اور کرائوں میں ہوش رُبا اضافے کے سبب شہروں کے مضافات میں کچّی بستیوں اور سرائے میں سکونت پذیر ہیں۔

دوسری جانب ایران میں اس وقت 26 لاکھ کے قریب گھر خالی پڑے ہوئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر سرکاری اداروں اور ایرانی پاسداران انقلاب کے مقرّب سرمایہ کاروں کے ہیں۔ سرکاری میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ یہ مکانات اس وجہ سے خالی پڑے ہیں کہ انہیں خیالی قیمتوں میں فروخت کیا جائے۔

ایرانی شہریوں کی جانب سے ملک کے نظام کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو تیل کی آمدن اور ملکی دولت کے اربوں ڈالروں کو سکیورٹی گرفت مضبوط کرنے ، خطّے کے ممالک میں مداخلت، علاقائی جنگوں اور دہشت گردی اور ملیشیاؤں کی سپورٹ پر لٹا رہا ہے جب کہ عوام باعزّت زندگی کی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں