فی الوقت اپنی فوج شام نہیں بھیجیں گے: مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے باور کرایا ہے کہ عرب فورسز کے شام بھیجے جانے سے متعلق امریکی تجویز کا مقصد شام کی سیادت کی خلاف ورزی کی ذمّے داری اور فوجی آپریشن کے اخراجات کے مالی بوجھ کو بانٹنا ہے۔

لاؤروف نے یہ بات پیر کے روز روس اور مصر کے وزراء خارجہ اور وزراء دفاع کے درمیان بات چیت کے بعد کہی۔

ادھر مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے ایک بار پھر اپنے ملک کے اس موقف کو دُہرایا ہے کہ "مصر اپنی فورسز شام نہیں بھیجے گا اور یہ معاملہ اس وقت زیر غور نہیں ہے"۔

روس اور مصر کے وزراء خارجہ اور وزراء دفاع کے درمیان یہ چوتھی مرتبہ بات چیت کا انعقاد ہوا۔

روسی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق "بات چیت اعتماد پر مبنی ماحول میں ہوئی۔ یہ روس اور مصر کے درمیان اُن امتیازی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے جو جامع شراکت داری اور تزویراتی تعاون کی سطح تک پہنچ چکے ہیں"۔

دوسری جانب مصڑی وزارت خارجہ کے ترجمان احمد ابو زید نے بتایا کہ سرگئی لاؤروف اور سامح شکری نے اپنی مشاورت کے دوران دو طرفہ خصوصی تعلقات کی امتیازی سطح کو گراں قدر قرار دیا۔ ان تعلقات میں دسمبر 2017ء میں روسی صدر ولادیمر پوتین کے قاہرہ کے دورے کے بعد سے اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ اس دورے میں مصر میں الضبعہ کے نیوکلیئر اسٹیشن کے قیام کے لیے کام شروع کرنے کے حوالے سے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ بعد ازاں 11 اپریل 2018ء سے قاہرہ اور ماسکو کے درمیان فضائی پروازوں کا سلسلہ دوبارہ سے شروع ہو گیا۔ علاوہ ازیں توقع ہے کہ ماسکو میں 21 سے 23 مئی تک ہونے والے مشترکہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران مصر میں روسی صنعتی زون قائم کرنے کے حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں