مقتدیٰ الصدر ٹیکنو کریٹس پر مشتمل کابینہ بنانے کے لیے عراقی بلاکوں سے اتحاد کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

عراق کے طاقتور شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر اور ا ن کی قیادت میں سیرون اتحاد نے دوسرے اتحادوں کے ساتھ مل کر ٹیکنو کریٹس پر مشتمل کابینہ بنا نے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔سیرون اتحاد کو پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق برتری حاصل ہے اور توقع ہے کہ وہ سب سے زیادہ نشستیں حاصل کر لے گا۔

مقتدیٰ الصدر نے منگل کو ایک ٹویٹ میں کابینہ کی تشکیل کے لیے نئے اتحاد سے متعلق بعض شرائط کا اعلان کیا ہے اور انھوں نے کہا کہ وہ شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کی بالادستی کے حامل فتح اتحاد ، سابق وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت میں اسٹیٹ آف لا اتحاد اور عراق کے مرحوم صدر جلال طالبانی کی جماعت پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے ساتھ نئی حکومت کی تشکیل کے لیے کوئی اتحاد نہیں بنائیں گے۔

انھوں نے ٹویٹ میں لکھا ہے:’’ ہم ’دانش‘ اور ’قومیت‘ کی جانب بڑھ رہے ہیں تاکہ ہم اپنے عوام کی منشا پر پورا اتر سکیں ۔ایک ’نئی نسل‘ کی تعمیر کر سکیں ،اصلاح کے لیے ’تبدیلی‘ کا مشاہدہ کریں ۔یہ عراقی ’ فیصلہ‘ ہے اور ہم ’فتح کا جھنڈا‘ لہرا سکتے ہیں۔بغداد ہمارا دارالحکومت، ہماری’ شناخت‘ ہے ۔ ہماری جمہوری کوششیں ٹیکنو کریٹ کیڈر پر مشتمل ایک مادر حکومت کی تشکیل کے لیے ہیں ‘‘۔

اس ٹویٹ میں انھوں نے عراق کے تمام انتخابی اتحادوں کے ناموں کو سمو دیا ہے اور ایک طرح سے انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ ان اتحادوں کے ساتھ مل کر نئی حکومت بنانے کو تیار ہیں ۔ان میں عمار الحکیم کی قیادت میں دانش تحریک ، سابق وزیراعظم ایاد علاوی کی قیادت میں قومی اتحاد اور حنان الفتلاوی کی قیادت میں ارادہ تحریک شامل ہیں ۔

انھوں نے نوجوان کرد کاروباری شخصیت شاہ سوار عبدالوحید کی قیادت میں نئی نسل اتحاد ، کرد تبدیلی بلاک اور پارلیمان کے سابق اسپیکر اسامہ النجیفی کی قیادت میں فیصلہ بلاک ،سابق وزیر دفاع خالد العبیدی کی سربراہی میں بیرق الخیر ، وزیراعظم حیدر العبادی کی قیادت میں نصر بلاک ، محمود المشہدانی کے بغداد اتحاد اور سابق کرد صدر مسعود بارزانی کی قیادت میں کرد جمہوری پارٹی کے ساتھ مل کر نئی حکومت کی تشکیل کے لیے خواہش کا اظہار کیا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خلیج امور ثامر السبھان نے عراقیوں کو ملک میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد پر مبارک باد دی ہے۔انھوں نے مقتدیٰ الصدر کی ٹویٹ کے جواب میں ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ’’ آپ حقیقی معنوں میں دانش ، حب الوطنی اور یک جہتی کی جانب آگے بڑھ رہے ہیں ۔آپ نے عراق میں تبدیلی کے لیے ایک فیصلہ کیا ہے۔ایسا عراق جس میں آزادی ، عربیت اور شناخت کے ساتھ فتح کے پھریرے لہرا رہے ہوں۔میں آپ ایسی شخصیت پر عراق کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ‘‘۔

دریں اثناء مقامی میڈیا ذرائع نے ایک سیاسی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ چار بلاک ملک کر پارلیمان میں ایک نیا اتحاد بنانا چاہتے ہیں ۔ان میں اسٹیٹ آف لا اتحاد ، فتح اتحاد اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان شامل ہیں ۔چوتھے بلاک کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔

بغداد میں ایرانی سفارت خانے کے ایک قریبی ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ پارلیمانی انتخابات کے انعقاد سے پانچ روز قبل نوری المالکی ، ہادی العامری ، ایاد علاوی ، سلیم الجبوری اور ایرانی سفیر کے درمیان ایک ملاقات ہوئی تھی اور اس میں ان چاروں لیڈروں کے زیر قیادت انتخابی بلاکوں کے ایک مشترکہ اتحاد کی تشکیل پر غور کیا گیا تھا تاکہ مابعد انتخابات ملک میں تمام فرقوں پر مشتمل ایک وسیع البنیاد حکومت قائم کی جاسکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں