اسرائیلی دہشت گردی نے غزہ میں شیر خوار بچی کی جان لے لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کی مشرقی سرحد پر حق واپسی کے حصول کے لیے احتجاجی مظاہرے کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کے طاقت کے اندھا دھند استعمال سے ہرعمر کے شہری شہید ہوئے ہیں ان میں کم سن بچے بھی شامل ہیں۔

دو روز قبل غزہ کی سرحد پر مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج کے وحشیانہ تشدد سے شہید ہونے والوں میں ایک آٹھ ماہ کی شیر خوار لیلیٰ الغندور بھی شامل ہیں۔

لیلیٰ کی ماں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے نہتے مظاہرین کے سروں پر زہریلی آنسوگیس کی بارش برسا دی جس کے نتیجے میں شہری دم گھٹنے سے متاثر ہوئے۔ متاثرین میں اس کی بچی بھی شامل تھی جو بعدا ازاں منگل کی صبح اسپتال میں دم توڑ گئی۔

غزہ وزارت صحت نے منگل کو بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج کی آنسوگیس کی شیلنگ سے متاثر ہونے والی ایک بچی بھی دم توڑ گئی جس کے بعد غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ساٹھ تک جا پہنچی ہے۔

شہید ہونے والی ننھی لیلیٰ کی ماں مریم الغندور نے کہا کہ لیلیٰ ان کی اکلوتی بیٹی تھیں۔ آنکھوں سے جاری آنسو پونچھتے ہوئے انہوں نے خبر رساں ادارے ’اناطولیہ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی دشمن نے ان سے ان کی زندگی کی خوشی چھین لی۔

ایک سوال کے جواب میں مریم نے کہا کہ وہ احتجاجی مظاہروں میں شریک نہیں تھیں۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے مظاہرین کے ساتھ ساتھ شہریوں کے گھروں پر بھی آنسوگیس کی شیلنگ کی۔ ان کی بچی گھر پر شیلنگ کے نتیجے میں متاثر ہوئی اور بالآخر دم توڑ گئی۔ مریم کا ایک بھائی جس کی عمر تیرہ سال اور دادی بھی زخمی ہوئی ہیں۔ زخمی لڑکے عمار کی عمر 13 سال بتائی جاتی ہے۔

شہید ہونے والی بچی کی دادی ھیام عمر نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے مظاہرین اور شہریوں کے گھروں پر خوفناک اور انتہائی مہلک آنسوگیس کی شیلنگ کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں