امریکی سفارت خانے کی مقبوضہ القدس منتقلی سے عدم استحکام پیدا ہوگا: عبدالفتاح السیسی

امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے ایشو کے عرب اور اسلامی رائے عامہ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے خبردار کیا ہے کہ امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلیم ( مقبوضہ بیت المقدس) منتقلی سے عدم استحکام کی راہ ہموا ر ہوگی۔

مصری صدر نے امریکی سفارت خانے کی سوموار کو منتقلی کے ردعمل میں یہ پہلا بیان جاری کیا ہے۔وہ قاہرہ میں نوجوانوں کے ساتھ پانچویں کانفرنس کے موقع پر ’’ صدر سے پوچھیے‘‘پروگرام کے دوران میں مختلف سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔ انھوں نے حال ہی خطے میں رونما ہونے والے مختلف واقعات کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔

انھوں نے کہا:’’ امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے معاملے پر ہم یہ کہہ چکے ہیں کہ اس سے عرب اور اسلامی رائے عامہ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔اس سے بے چینی اور عدم استحکام پیدا ہوگا اور اس کے فلسطینی کاز کے لیے بھی منفی مضمرات ہوں گے‘‘۔

صدر السیسی نے اس یوتھ کانفرنس کے تیسرے سیشن کے دوران میں مصری عوام کے مختلف سوالوں کے جواب دیے ہیں۔انھوں نے تیل کی قیمتوں میں اضافے ، ایران سے کشیدگی ، ایتھوپیا کے ساتھ دریائے نیل پر ڈیم کے تنازع ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اعتدال پسند مذہبی تقریر کے بارے میں ا ظہار خیال کیا ہے۔

انھوں نے تمام تنازعات کے پُرامن سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا اور مصریوں سے کہا کہ وہ ملک میں اتحاد اور استحکام کے لیے کوششوں کی حمایت کریں۔

انھوں نے دریائے نیل پر ڈیم کے تنازع کے حل کے لیے متعلقہ فریقوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں پیش رفت کے بارے میں بھی بتایا۔ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایتھوپیا کے وزیراعظم کو اس مسئلے پر مزید بات چیت کے لیے قاہرہ کے دورے کی دعوت دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں