شامی باغیوں کا وسطی صوبے حمص میں اپنے زیر قبضہ علاقوں سے انخلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

شام کے وسطی صوبے حمص میں باغی جنگجوؤں نے اپنے زیر قبضہ آخری علاقے سے انخلا شروع کردیا ہے۔شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بدھ کو حمص اور حماہ کے درمیان واقع علاقے سے باغی جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کے بسوں کے ذریعے شمال مغربی صوبے ادلب کی جانب انخلا کی اطلاع دی ہے۔

باغی جنگجو جس علاقے کو خالی کرکے جا رہے ہیں ،یہ وسطی شہر حمص اور حماہ کے درمیان الرستن ، تلبیسہ اور حولہ کے قصبوں کے آس پاس واقع ہے۔اس علاقے پر کنٹرول کے بعد شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کی ملک کے کم وبیش تمام وسطی علاقوں میں عمل داری قائم ہوجائے گی۔

اسد حکومت نے اس علاقے سے باغیوں کو بے دخل کرنے کے لیے وہی حربہ استعمال کیا ہے جو وہ ستمبر 2015ء میں روس کی اس جنگ میں مداخلت کے بعد سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے استعمال کرتی چلی آرہی ہے۔اس کے تحت شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیائیں ایسے علاقے کی پہلی ناکا بندی کرتی ہیں، مکینوں کا قحط سے دوچار کیا جاتا ہے، ان پر فضائی بمباری کی جاتی ہے، پھر زمینی کارروائی کا آغاز کیا جاتا ہے اور سمجھوتے کے بعد باغیوں اور ان کے خاندانوں کو محفوظ راستہ دینے کے بدلے میں علاقہ چھوڑنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔

شامی فوج نے حال ہی میں اپنے اتحادیوں کی مدد سے شہریوں کے خلاف انسانیت سوز حربے آزما کر دمشق کے نواح میں واقع مشرقی الغوطہ پر دوبارہ مکمل قبضہ کیا ہے۔اسد حکومت کی اس پالیسی کے تحت اب تک باغی جنگجوؤں اور شہریوں سمیت ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کر کے شمال مغربی صوبے ادلب میں منتقل کیا ہے۔

شامی حزبِ اختلاف نے اس کو جبری بے دخلی کی پالیسی قرار دیا ہے جس کا مقصد باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے جبکہ شامی حکومت کاموقف ہے کہ اس نے کسی کو جبری انخلا پر مجبور نہیں کیا ہے۔البتہ جو لوگ اپنے علاقوں میں رہنا چاہتے ہیں،انھیں اسد حکومت کی عمل داری کو تسلیم کرنا ہوگا۔

شامی فوج نے اس وقت داعش کے جہادیوں کے زیر قبضہ دمشق کے جنوب میں واقع علاقے الحجر الاسود اور فلسطینی مہاجرین کے کیمپ یرموک کا بھی محاصرہ کررکھا ہے۔رقبے کے اعتبار سے یہ مشرقی الغوطہ کے مقابلے میں بہت چھوٹا علاقہ ہے۔شامی فوج گذشتہ کئی ہفتوں کی زمینی اور فضائی بمباری کے بعد بھی داعش کے جنگجوؤں کو سرنگوں یا انھیں انخلا پر مجبور نہیں کرسکی ہے۔

یرموک کیمپ دمشق سے آٹھ کلومیٹر دور واقع ہے اور یہ شام میں مارچ 2011ء میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز سے قبل فلسطینی مہاجرین کا سب سے بڑا کیمپ تھا۔اس کے بعد سے بڑی تعداد میں فلسطینی مہاجرین وہاں سے بیرون ملک یا دوسرے علاقوں کی جانب جاچکے ہیں۔تاہم اقوام متحد ہ کے مطابق یرموک کیمپ میں اب بھی ہزاروں فلسطینی رہ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں