.

اسرائیلی فوج کا غزہ میں حماس کی تنصیب پر فضائی حملہ

ترکی مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے غزہ میں حماس کی ایک تنصیب پر فضائی حملہ کیا ہے۔اس نے اس حملے کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ فلسطینی علاقے سے اس کے فوجیوں پر فائرنگ کی گئی تھی اور اس سے ایک عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔

اسرائیلی وزارت دفاع نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے شمال میں حماس کے انفرا اسٹرکچر اور اسلحہ سازی کی جگہ سمیت اہداف کو حملے میں نشانہ بنایا ہے‘‘۔

اسرائیلی فوج نے بدھ کو بھی حماس کے تین ٹھکانوں پر ٹینکوں سے گولہ باری کی تھی ۔اس نے غزہ سے اسرائیلی فوجیوں کی جانب فائرنگ کے بعد یہ کارروائی کی تھی۔غزہ سے فائر کیا گیا بھاری مشین گن کا ایک گولہ سرحدی قصبے سدیروت میں ایک مکان پر جا کر لگا تھا۔

غزہ میں فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوج کی گولہ باری سے ایک شخص زخمی ہوا ہے۔البتہ اس نے یہ نہیں بتایا کہ وہ حماس کی کسی تنصیب کے اندر موجود تھا یا اس کے قریب کہیں تھا۔

ترکی یروشلیم پر اقوام متحدہ کی قرارداد کا خواہاں

دریں اثناء ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو نے کہا ہے کہ ان کا ملک یروشلیم ( مقبوضہ بیت المقدس) کے بارے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ایک قرارداد کی منظوری چاہتا ہے۔

انھوں نے ترکی کے سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی خبر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک آزاد کمیشن کو غزہ میں تشدد کے واقعات سے متعلق ایک رپورٹ تیار کرنی چاہیے اور اسرائیل کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے۔

اسرائیلی فوجیوں نے گذشتہ سوموار کو امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقلی کے خلاف احتجاج کرنے والے ہزاروں فلسطینیوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس سے ساٹھ سے زیاد ہ فلسطینی شہید اور ڈھائی ہزار زخمی ہوگئے تھے۔غزہ میں اسرائیلی فوج کی 2014ء میں مسلط کردہ جنگ کے بعد سے ایک دن میں فلسطینیوں کی یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں ۔

امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر تشدد کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کے لیے بیان کو منظور نہیں ہونے دیا تھا اور اس نے حسبِ سابق اسرائیل کے خلاف سلامتی کونسل میں ایک اور تحریک کو مسترد کردیا تھا۔