.

ڈرائیونگ کی اجازت پر سعودی خواتین پہلے سفر میں کہاں جائیں گی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں خواتین کے گاڑی چلانے کا وقت یعنی 10 شوّال کا دن قریب آ رہا ہے۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد اس حوالے سے منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ ان میں بعض تو ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے تربیت حاصل کر رہی ہیں جب کہ بعض نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ تماشائی بن کر معاشرے میں اس نئے تجربے کے نتائج کا جائزہ لیں گی جس کا خواتین کو ایک طویل عرصے سے انتظار تھا۔

سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ سکھانے والی ایک تربیت کار کا کہنا ہے کہ "تربیت حاصل کرنے کے لیے آنے والی زیادہ تر خواتین کی عمر 60 برس کے لگ بھگ ہے۔ اس کے مقابل یونی ورسٹی طالبات اور نوجوان لڑکیوں کی توجہ کافی حد تک کم ہے جس کی بنیادی وجہ ان کے اہل خانہ کا ڈرائیوروں پر انحصار کرنا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان لڑکیوں کے کم عمر ہونے کے سبب ان کے اہل خانہ نے گاڑی چلانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ البتہ ملازمت پیشہ یا کام کرنے والی خواتین کی صورت حال مخلتف ہے کیوں کہ وہ اپنی رائے میں زیادہ خود مختاری رکھتی ہے۔ بڑی عمر کی خواتین تربیت میں زیادہ تھکا دیتی ہیں جب کہ ان میں بہت سی خواتین ڈائیونگ ٹیسٹ میں کامیاب نہیں ہو سکیں"۔

کئی خواتین سے جب یہ پوچھا گیا کہ ڈرائیونگ کی اجازت کا دن آنے پر ان کا پہلا سفر کہاں کا ہو گا اور وہ کس چیز سے سب سے زیادہ خائف ہیں، تو ان کے مختلف جوابات سامنے آئے۔

سعودی خاتون شیرین باوزیر کے مطابق وہ پہلے سفر میں سُپر مارکیٹ جائیں گے جب کہ انہیں سب سے زیادہ ڈر بعض افراد کی جانب سے تیز رفتاری کا ہے۔

فاطمہ آل تیسان کہتی ہیں کہ وہ پہلے سفر میں اپنے رشتے داروں سے ملنے جائیں گی جن کے بارے میں ان کو اعتماد ہے کہ وہ اس دن فاطمہ کی خوشی میں شریک ہوں گے۔ فاطمہ کے مطابق آڑے ترچھے راستے اور گاڑیوں میں اچانک تعطّل ان کے لیے خوف اور تشویش کا باعث ہے۔

امانی السلیمی کا کہنا ہے کہ پہلے سفر میں وہ اپنے کام پر جائیں گی تا کہ ڈرائیور کے انتظار کے بغیر جانے اور آنے کے احساس سے لطف اندوز ہو سکیں۔ وہ ٹریفک کے رش اور حادثات سے خوف زدہ ہیں۔

ادھر خلود الحارثی نے پر اعتماد لہجے میں بتایا کہ پہلے سفر میں وہ اپنے اہل خانہ سے ملنے جائیں گی اور انہیں آگاہ کریں گی کہ آخرکار اب وہ سفر کے لیے کسی کی محتاج نہیں رہیں۔ تاہم خلود کو یہ ڈر ہے کہ وہ گاڑی چلانے کے دوران سو نہ جائیں۔

ایک دوسری خاتون خلود البراہیم کا کہنا ہے کہ بہت سے ڈرائیوروں کی جانب سے گاڑی چلانے سے متعلق ہدایات پر عمل نہ کرنا ان کے لیے بہت زیادہ خوف کا باعث ہے۔

ایک اور سعودی شہری مریم الحسن کے نزدیک انہیں ڈرائیونگ کے حوالے سے کسی چیز کا خوف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلا سفر بِنا کسی مقصد کے محض تجرباتی طور پر ہو سکتا ہے۔

نجات الماجد کا خیال ہے کہ ان کے پہلے سفر کی منزل تجارتی مراکز ہوں گے بالخصوص وہ جو ان کے گھر کے قریب ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ انہیں پہاڑیوں اور پُلوں پر گاڑی چلاتے ہوئے خوف محسوس ہو گا۔ اس کے علاوہ وہ پٹرول ختم ہو جانے اور کسی دور دراز علاقے میں گاڑی خراب ہو جانے سے بھی خوف محسوس کرتی ہیں۔

البتہ سعودی خاتون منی الکودری نے ڈرائیونگ لائسنس کا حصول ذوالحجہ کے مہینے کے بعد تک مؤخر کرنے کو ترجیح دی ہے۔ وہ اس بات پر پوری طرح قائل ہیں کہ یہ ایک اچھا تجربہ ہے تاہم وہ ضرورت کے سوا اس پر عمل کرنا پسند نہیں کرتی ہیں۔

لبنی محمد کے مطابق تربیت کے بعد خواتین کو دو اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ان میں ایک تو کام کرنے والی خواتین ہیں جن کا پہلا سفر یقینا اپنے کام کی جگہ جانے کے لیے ہو گا۔ دوسری قسم گھر میں بیٹھی خواتین کی ہے جن کا سفر ہنگامی صورت میں ہسپتال کی جانب ہو گا۔ لبنی کے مطابق وہ جن امور کے حوالے سے خوف کا شکار ہیں ان میں گاڑی کا خراب ہو جانا، ٹائر پھٹ جانا اور ایسی صورت میں کسی اجنبی کے ساتھ ٹیکسی میں سفر کرنا شامل ہے۔ لبنی جانوروں کے گاڑی کے نیچے آ جانے سے بھی ڈرتی ہیں کیوں کہ یہ منظر ان کو بے حد پریشان کرتا ہے اور ایسی صورت میں وہ اپنا سفر مکمل نہیں کر سکیں گی۔

سعودی خاتون فاطمہ بوعثمان کے مطابق ان کا پہلا سفر اپنے اہل خانہ اور دوستوں سے ملاقات کے لیے ہو گا۔ وہ ڈرائیونگ کے قواعد و ضوابط سے ناواقف ڈرائیوروں سے خوف کھاتی ہیں۔

تہانی عطیف کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پہلے سفر میں گھر کی ضروریات لینے کے لیے جائیں گی۔ تہانی تنگ سڑکوں اور ٹریفک حادثات کے حوالے سے خوف کا شکار ہیں۔