امریکا کی شام میں ترجیحات متعین، شمالی علاقے سے امداد واپس لینے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

باخبر امریکی ذمّہ داران نے جمعے کے روز بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ شمال مغربی شام میں اسلامی گروپوں کے زیر کنٹرول علاقوں سے اپنی کمک اور امداد واپس لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ذمّے دران کے مطابق امریکی انتظامیہ اب اپنی توجہ اُن علاقوں کی تعمیرِ نو پر مرکوز کرنا چاہتی ہے جو امریکا کے زیر قیادت فورسز نے ملک کے شمال مغرب میں داعش تنظیم سے واپس لیے تھے۔

یہ خبر پہلی مرتبہ CBS نیوز نیٹ ورک پر آئی جس میں بتایا گیا کہ امریکی انتظامیہ اُن مختلف سرگرمیوں کے سلسلے میں کروڑوں ڈالروں کی کمی کرے گی جن کی واشنگٹن کی جانب سے سپورٹ کی جا رہی تھی۔ ان سرگرمیوں میں پر تشدد انتہا پسندی پر روک لگانا، آزاد تنظیموں اور خود مختار ذرائع ابلاغ کو سپورٹ کرنا اور تعلیم کی سپورٹ شامل تھی۔ مذکورہ نیوز نیٹ ورک کے مطابق یہ فیصلہ صدر گزشتہ چند ہفتوں کے دوران صدر ٹرمپ کے اُس مطالبے کے بعد کیا گیا جس میں انہوں نے شام کے لیے امریکا کی ہر قسم کی امداد کا جائزہ لینے کو کہا تھا۔

سی بی ایس نیٹ ورک نے واضح کیا کہ شام کے شمال مغربی علاقے میں طویل المیعاد بنیادوں پر امریکا کی امدادات کو بڑی حد تک غیر مؤثر شمار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی ذمہ داران نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ شمال مغربی شام میں اِدلب صوبے کے حوالے سے انسانی امداد ہر گز متاثر نہیں ہو گی۔ یہ شامی اراضی کا سب سے بڑا رقبہ ہے جو مسلح اپوزیشن گروپوں کے کنٹرول میں ہے۔

ادھر امریکی وزارت خارجہ کے ایک ذمّے دار کا کہنا ہے کہ شمال مغربی شام میں امریکی امداد کے پروگراموں میں ترمیم کی گئی ہے جس کا مقصد اس علاقے میں ترجیحات کے لیے ممکنہ اضافی سپورٹ پیش کرنا ہے۔ ایک دوسرے ذمّے دار کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اس امداد کو ان علاقوں میں منتقل کرنا چاہتی ہے جہاں امریکا کا زیادہ بڑا کنٹرول ہے۔

یاد رہے کہ رواں برس مارچ میں امریکی صدر ٹرمپ نے شام میں تعمیر نو کی کوششوں کے لیے مختص رقم میں سے 20 کروڑ ڈالر سے زیادہ منجمد کر دیے تھے۔ ٹرمپ نے مارچ میں کہا تھا کہ داعش کے شدت پسندوں کے خلاف کامیابیوں کے حصول کے بعد وقت آ گیا ہے کہ امریکا اب شام سے نکل آئے۔ شام میں اس وقت تقریبا 2 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔

تاہم اپریل میں امریکی صدر واپس پلٹے اور امریکی مداخلت میں اس وقت اضافہ دیکھنے میں آیا جب ٹرمپ نے شام پر میزائل حملوں کے احکامات دیے۔ یہ امریکی کارروائی شامی حکومت کی جانب سے زہریلی گیس کے اُس حملے کے جواب میں کی گئی جس میں درجنوں شہری جاں بحق ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں