روس کا شام سے ایران نواز ملیشیاؤں کے کوچ کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے لیے روسی صدر کے نمائندے الیگزینڈر لافرنتیو نے باور کرایا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے شام سے غیر ملکی فورسز کے انخلاء کے حوالے سے جو بیان دیا ہے اس سے ان کی مراد ایرانی فورسز، حزب اللہ اور ترک اور امریکی افواج ہیں۔

جمعے کے روز اخباری بیان میں نمائندے نے واضح کیا کہ سُوشی میں بشار الاسد کے ساتھ جمعرات کو ملاقات کے دوران صدر پیوتن کا دیا گیا بیان شامی سرزمین پر موجود تمام عسکری گروپوں کے لیے ہے جن میں امریکیوں ، تُرکوں اور ایرانیوں کے علاوہ حزب اللہ بھی شامل ہے۔

لافرنتیو نے زور دے کر کہا کہ اس حوالے سے روسی صدر کی بات ایک "سیاسی پیغام" ہے۔

روسی عہدے دار نے مزید کہا کہ "یہ معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے اس لیے کہ ان اقدامات پر اجتماعی طور پر عمل درامد کرنا ہوگا۔ اس عمل کو استحکام کو مضبوط بنائے جانے کے ساتھ متوازی طور انجام دینا ہو گا اس لیے کہ عسکری پہلو اختتام پذیر ہے اور اس وقت تصادم اختتامی مراحل میں ہے"۔

روسی صدر نے جمعرات کے روز بشار الاسد سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ "ہم یہاں سے آغاز کریں گے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں نصرتوں اور شامی فوج کی کامیابی کے علاوہ سیاسی عمل کے سرگرم مرحلے کے آغاز کے بعد آئندہ شامی اراضی سے غیر ملکی مسلح فورسز کا انخلاء بھی شروع ہو جائے گا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں