.

ایران: فارس صوبے میں حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے جنوبی صوبے فارس کے شہر کازرون میں مسلسل چوتھے روز بھی عوامی احتجاج دیکھا گیا۔ کارکنان کے مطابق احتجاجی مظاہرے ہفتے کی شام سے شروع ہو کر اتوار کی صبح تک جاری رہے۔

سوشل میڈیا پر جاری وڈیو کلپس میں سکیورٹی فورسز کی نوجوانوں کے ساتھ جھڑپیں ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ سراپا حتجاج بنے ہوئے نوجوانوں نے سڑکوں پر آگ لگا دی اور پُر زور نعروں کے ذریعے گزشتہ دنوں کی ریلیوں میں گرفتار ہونے والوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

کارکنان کے مطابق کازرون شہر میں وسیع پیمانے پر لوگ افطار کے بعد احتجاجی مظاہروں کے لیے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ اس دوران سکیورٹی فورسز اور پولیس نے احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کی اور آنسو گیس کے گولے بھی پھینکے۔

کازرون شہر کے بازار میں ہفتے کے روز عام ہڑتال کی گئی جہاں تاجروں اور کاروباری حضرات نے اپنی دکانیں بند رکھیں اور سکیورٹی فورسز کے دباؤ کے باوجود انہیں دوبارہ کھولنے سے انکار کر دیا۔

ایرانی حکام نے دو مظاہرین کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے جب کہ ایرانی کارکنان نے جاں بحق ہونے والے تین افراد کی تصویر جاری کی ہے۔ بدھ کے روز سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے رضا اجدری اور علی محمد آزاد ہلاک ہو گئے جب کہ امید یوسفیان زخمی ہونے کے بعد ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

کازرون شہر میں انٹرنیٹ کا سلسلہ بھی منقطع کر دیا گیا جب کہ بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز پھیلی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ اس دوران پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ ایک وڈیو کلپ میں خاتون کی آواز سنائی دے رہی ہے جس کا کہنا ہے کہ یہ فورسز داعش تنظیم کے عناصر کی طرح لوگوں کے ساتھ وحشیانہ طریقے سے پیش آ رہے ہیں۔

ایک دوسرے وڈیو کلپ میں سکیورٹی فورسز کو مظاہرین کے بیچ سے فرار ہوتے دکھایا گیا ہے جب کہ احتجاج کرنے والے ایرانی شہری سکیورٹی اہل کاروں کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکا اور عالمی برادری نے احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف ایرانی حکام کے کریک ڈاؤن کی سخت مذمت کی ہے۔ امریکی سینیٹر مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ وہ بدعنوانی اور حکومتی کریک ڈاؤن کے خلاف ایرانی عوام کے احتجاج کی سپورٹ میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی آواز میں اپنی آواز ملاتے ہیں۔ اپنی ٹوئیٹ میں روبیو نے میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ کازرون شہر اور ایران میں دیگر مقامات پر احتجاجات پر توجہ مرکوز کرے جہاں لوگ ایرانی نظام کے خلاف مظاہروں کے ذریعے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ " 3 ہلاکتیں اور انٹرنیٹ منقطع کر دینا یہ اس نظام کی اصلیت کو ظاہر کر رہا ہے"۔

ہالینڈ کے وزیر خارجہ اسٹیف بلوک کا کہنا ہے کہ "احتجاج کرنے والوں کو آزاد ہونا چاہیے اور حکومت کو صورت حال سے نمٹنے میں تشدد کا راستہ نہیں اپنانا چاہیے"۔

اقوام متحدہ میں آبادی فنڈ کے ترجمان فرحان حق کے مطابق ایرانی حکام کو لوگوں کو پر امن طور پر جمع ہونے اور احتجاج کرنے کا حق انہیں دینا چاہیے۔

ایرانی وزارت داخلہ نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ کازرون شہر میں ایک نئے علاقے کا قیام روک دیا گیا ہے۔ حکام نے عوامی احتجاج کو "غیر قانونی" قرار دیتے ہوئے اس سے فیصلہ کن انداز میں نمٹنے کی دھمکی دی تھی۔

ادھر مظاہرین نے اپنے نعروں میں وزارت داخلہ کے مذکورہ اعلان کو محض ایک "ڈھکوسلہ" قرار دیا جس کا مقصد کازرون شہر میں جاری احتجاجات کو روکنا ہے۔ کازرون میں عوامی احتجاج کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب حکومت نے شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدام کے نتیجے میں بجٹ، دولت، کارخانے اور روزگار کے ومواقع نئے زون کو چلے جائیں گے جب کہ کازرون پہلے ہی بے روزگاری، غربت اور محرومی کی بلند شرح سے دوچار ہے۔

یہ مظاہرے جلد ہی ایک عوامی تحریک میں تبدیل ہو گئے اور ایرانی عوام حکومت کی جانب سے کریک ڈاؤں، بدعنوانی، عدم ترقی اور عوام کو ملکی دولت سے محروم کرنے کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔