.

جرمنی بن لادن کے محافظ کومشروط طورپر تیونس کے حوالے کرنے کوتیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی حکومت نے تیونس کی جانب سے گرفتاری اور تشدد نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد تیونسی نژاد القاعدہ رکن اور اسامہ بن لادن کے ذاتی باڈی گاڈ کو تیونس کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جرمن حکام کا کہنا ہے کہ تیونس کی طرف سے یقین دہائی کرائی گئی ہے کہ وہ بن لادن کے محافظ کو گرفتار کریں اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی قسم کا ناروا سلوک کیا جائے گا۔

ایک جرمن اخبار ’بیلد‘ نے جمعہ کے روز اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ وزیر داخلہ ھورسٹ زیھوفر نے ایمی گریشن حکام سے کہا ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کے محافظ اور مبینہ شدت پسند ’سامی ا‘ کی تیونس حوالگی کے انتطامات کو جلد از جلد حتمی شکل دیں۔

اخباری رپورٹ کے مطابق بن لادن کے 41 سالہ محافظ کے جرمن سرزمین پر بدستور موجود رہنے پر عوام کی طرف سے سخت برہمی کا اظہار کیا گیا تھا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کا سیکیورٹی گارڈ جرمنی کی سلامتی کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے۔ خیال رہے کہ جرمنی کی حکومت 2006ء سے بن لادن کے سابق محافظ کو ملک بدر کرنے کی کوششیں کرتی چلی آ رہی ہے۔ القاعدہ رکن کو تیونس کے حوالے کرنے کی بات چیت کی گئی تھی مگر جرمن حکومت کو ڈر ہے کہ تیونس حوالگی کے بعد بن لادن کے محافظ کو گرفتار کرکے اسے اذیتیں دی جائیں گی۔

دوسری جانب تیونس حکام نے جرمنی کے اس خدشے کو سختی سے رد کیا ہے۔ تیونسی حکومت کا کہنا ہے کہ جرمن عدلیہ کی طرف سے تیونس میں قیدیوں پر تشدد کے حوالے سے خواہ مخواہ پروپیگنڈہ کیا جا رہاہے۔ تیونس ایک جمہوری ملک ہے جہاں انسانی اقدار کا احترام کیا جاتا ہے۔

تیونس کے وزیر برائے انسانی حقوق مہدی بن غریبہ کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں جیلوں میں قیدیوں پر تشدد نہیں کیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تیونس ایک جمہوری ملک ہے جو انسانی حقوق کا احترام کرتا اور قانون کے مطابق قیدیوں سے سلوک کرتا ہے۔

خیال رہے کہ ’سامی ا‘ نامی شدت پسند 1997ء میں تیونس سے تعلیم کے حصول کے لیے جرمنی آیا جہاں وہ القاعدہ میں شمولیت کے لیے جرمنی سے افغانستان چلا گیا۔ سنہ 1999ء میں اس نے اسامہ بن لادن کا قرب حاصل کرنے کے بعد ان کے باڈی گارڈ کے طور پر بھی کام کیا۔ بعد ازاں وہ دوبار جرمنی لوٹ آیا تھا۔

گذشتہ ماہ جرمنی نے ’داعش‘ سے تعلق رکھنے والے ’ہیکل ۔ س‘ نامی ایک شدت پسند کو تیونس کے حوالے کیا تھا۔ ہیکل پر سنہ 2015ء میں باردو میوزیم میں حملے سمیت کئی دوسری دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔ میوزیم پر حملے میں 20 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔