.

اسرائیل کا پہلی مرتبہ شام میں ایرانی اہداف پر حملوں سے متعلق معلومات کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ عمیکم نورکین نے انکشاف کیا ہے کہ دو ہفتے قبل ایران نے مقبوضہ گولان پر صرف 20 نہیں بلکہ 32 میزائل داغے تھے۔

دنیا کے مختلف ممالک کی فضائیہ کی قیادت کی شرکت کے ساتھ ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران نورکین نے بتایا اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے وسیع پیمانے پر کارروائی میں شام میں ایران کے 20 اہداف پر حملے کیے، اس دوران شام کی جانب سے اسرائیلی طیاروں پر 100 سے زیادہ میزائل داغے گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسرائیل نےF-35 طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے علاقے میں دو مختلف محاذوں کو دو مرتبہ بم باری کا نشانہ بنایا۔

رواں ماہ 10 مئی کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے شام میں ایران کے درجنوں اہداف پر حملہ کیا ہے۔ یہ کارروائی مقبوضہ گولان میں اسرائیل کے عسکری اڈوں پر میزائلوں کی بارش کے جواب میں کی گئی۔

اسرائیلی فوج نے اس وقت بتایا تھا کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی نے گولان میں اسرائیلی اڈوں پر میزائلوں سے ضرب لگانے کی کارروائی کی قیادت کی۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل جوناتھن کونریکوس نے اُس وقت بتایا تھا کہ شام میں گولان کے پہاڑی علاقوں میں موجود ایرانی فورسز نے وہاں اسرائیلی اہداف پر تقریبا 20 میزائل داغے تھے۔ تاہم آج منگل کے روز جاری نئی اسرائیلی معلومات کے مطابق داغے گئے میزائلوں کی تعداد 32 تھی۔

اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ کے مطابق گزشتہ ہفتوں کے دوران یہ دیکھا گیا کہ ایران طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور جدید ریڈار نظام شام میں داخل کر رہا ہے۔ ان میں بعض کو اسرائیلی فضائیہ نے نشانہ بھی بنایا۔

جنرل عمیکم نورکین نے کانفرنس کے شرکاء کو امریکا سے حاصل ہونے والے F-35 لڑاکا طیاروں کی تصاویر دکھائیں جو بیروت کی فضائی حدود میں اڑان بھر رہے تھے۔ اس کے علاوہ شرکاء کے سامنے 2007ء میں دیر الزور میں شامی ایٹمی ری ایکٹرز کو نشانہ بنائے جانے کی فلم بھی دکھائی گئی۔