.

ایران کے بارے امریکی حکمت عملی تہران کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے: قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی ایران کے خلاف نئی اقتصادی حکمت عملی کی حمایت کرتا ہے۔ بقول قرقاش امریکا کی ایران کے خلاف ٹھوس حکمت عملی تہران کو اپنی پالیسیاں بدلنے پر مجبور کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی پابندیاں کئی سال سے خطے میں جاری ایرانی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

ڈاکٹر انور قرقاش نے زور دیا کہ اتحادی ممالک ایران کو راہ راست پر لانے، اس کی توسیع پسندی کی روک تھام اور خطے میں اس کے انتشاری پروگرام کے خاتمے کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد پید کرنا ہو گا۔

’ٹوئٹر‘پر پوسٹ کیے گئے بیان میں انور قرقاش نے کہا کہ جب تک خطہ ایرانی سرگرمیوں سے متاثر ہے۔ ایران کی طرف سے عرب ممالک کی داخلی پالیسیوں اور خود مختاری کا احترام نہیں کیا جاتا اس وقت تک تہران کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ جوہری سمجھوتے کے بعد ایران کی عرب ممالک میں مداخلت غیر معمولی حد تک بڑھ گئی تھی۔ اب ایران کو یہ جان لینا چاہیے کہ اس کی خطے میں پالیسیوں کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

اماراتی وزیر مملکت برائے خارجہ امور نے کہا کہ خطے کو امن واستحکام کے ساتھ ایرانی مداخلت سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ ایران عرب خطے میں فرقہ واریت کو فروغ دے رہا ہے جس کے باعث تہران خود بند گلی میں جا چکا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نئی حکمت عملی کا تقاضا ہے کہ ایران اپنا قبلہ درست کرے۔