.

ایران کے حوالے سے امریکا کی نئی حکمت عملی پر عرب حمایت اور یورپی تحفظات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے حالیہ خطاب اور ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے آئندہ امریکی حکمت عملی کے جواب میں یورپی اور عرب ممالک کے مختلف ردود عمل سامنے آئے ہیں۔

یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کی رابطہ کار فیڈریکا موگرینی نے ایرانی جوہری معاہدے پر باقی رہنے کے لیے زور دیا ہے۔ انہوں نے باور کرایا ہے کہ جب تک ایران معاہدے کی پاسداری کرتا رہے اس وقت تک سمجھوتے کی شقوں پر مکمل عمل درامد جاری رکھا جائے۔

ادھر برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جونسن نے جوہری معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دنیا کو ایران کے ایٹم بم سے محفوظ رکھنے والا سمجھوتہ ہے۔ انہوں نے وسیع تر مذاکرات سے متعلق امریکی مطالبے پر واشنگٹن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے انتہائی مشکل قرار دیا۔

جرمنی کے وزیر خارجہ ہائیکو ماس کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک امریکا کے بغیر ایرانی معاہدے کا نفاذ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ماس نے ایران کے جوہری پروگرام کے دوبارہ آغاز کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے کہا ہے کہ امریکی تعارض درحقیقت گزشتہ کئی برسوں کے ایرانی برتاؤ کا قدرتی نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کوششوں کو متحد کرنے کی ضرورت ہے تا کہ تہران کو اپنی مداخلت اور توسیع پسندی کی بے مقصدیت کا ادراک ہو سکے۔

اس حوالے سے بحرین نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خطرے کا مقابلہ کرنے اور تشدد اور دہشت گردی برآمد کرنے کی ایرانی کوششوں پر روک لگانے کے سلسلے میں منامہ کا ویژن اور امریکی موقف ایک ہے۔