.

ڈرامہ سیریل "العاصوف" نے ریاض کے لوگوں کو "سعودی بِگ بین" کی یاد دلا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں رمضان کے دوران ٹی وی پر نشر ہونے والی ڈرامہ سیریل "العاصوف" نے 1970ء کی دہائی میں سعودی دارالحکومت ریاض کے مشہور مقامات کی یاد تازہ کر دی ہے۔ ان یادگاروں میں ریاض کے مرکزی الصفاہ اسکوائر پر نصب گھڑیال بھی ہے۔ ماضی میں اسے "سعودی بگ بین" کا نام دیا گیا تھا۔

الصفاہ گھڑیال کی عوام کے اندر مقبولیت کی وجہ یہ تھی کہ دارالحکومت کی آبادی اس کے بجنے کی دُھنوں کو سنا کرتے تھے۔ اس کے بعد ایک لڑکی کی آواز میں وقت کا اعلان کیا جاتا تھا۔ عموما لوگ اس مشہور گھڑیال کا وقت دیکھ کر اپنی گھڑیوں کا وقت درست کرتے تھے۔

دارالحکومت ریاض میں ترقیاتی پروگراموں کے باوجود الصفاہ اسکوائر پر موجود یہ گھڑیال آج تک اپنی جگہ پر قائم ہے۔ اس کی سوئیاں گزرنے والوں کو مملکت کے دوسرے فرماں روا شاہ سعود بن عبدالعزیز کے اُس دور کی کہانیاں سنا رہی ہوتی ہیں جب اس گھڑیال کو نصب کیا گیا۔

تاریخی معلومات کے مطابق یہ گھڑیال جرمنی کا تیار شدہ ہے۔ اس کی آواز 4 لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے 2000 میٹر کی مسافت تک سُنی جا سکتی ہے۔ بجلی منقطع ہونے کی صورت میں بھی یہ گھڑیال دو ماہ تک کام کر سکتا ہے۔ خطّے میں اس سے ملتا جلتا صرف ایک گھڑیال ہے اور وہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں واقع ہے۔

قدیم یادگاروں کے امور کے محقق بدر الخریف نے روزنامہ الشرق الاوسط میں تحریر کیا ہے کہ "الصفاہ کا گھڑیال ریاض کی آبادی کی Biological Clock کے ساتھ مربوط ہو گیا۔ لوگ اس کی آواز سن کر شہر کے وسطی علاقے اور وہاں واقع اکلوتے "المقيبرہ بازار" سے واپس لوٹا کرتے تھے۔ ہر ایک گھنٹے کے بعد گھڑیال بجتا تھا اور صنف نازک کی آواز میں وقت کا اعلان ہوا کرتا تھا"۔