.

امریکی وزیر خارجہ کا بیان "پرانے مفروضوں" پر مبنی ہے: جواد ظریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایران کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے بیان کو بے بنیاد اور پرانے مفروضوں پر مبنی قرار دیا۔

ظریف کا کہنا ہے کہ واشنگٹن پریشر گروپوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا بیان امریکا کی جانب سے 5 ایرانی شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان شخصیات کا ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ تعلق ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو یہ اعلان کر چکے ہیں کہ امریکا نے ایران سے جن تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے ان کا اطلاق مشکل کام نہیں۔ انہوں نے ایران کے حوالے سے یورپی ممالک کے ساتھ مشترکہ سفارتی نہج پر کام کے سلسلے میں اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔

دوسری جانب امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرق وسطی میں ایران کے رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے اقدامات کرنے کے درپے ہے۔

ادھر تہران نے امریکی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2015 میں طے پائے جانے والے جوہری معاہدے کو سبوتاژ کیا گیا تو اس کی جانب سے جارحیت کا اظہار سامنے آئے گا۔

ایرانی ایٹمی توانائی کی ایجنسی کے سربراہ علی اکبر صالحی نے باور کرایا کہ ان کے ملک نے اعلی ترین سطح پر یورینیم کی افزودگی کے لیے مطلوب تیاریاں مکمل کر لی ہیں تا کہ ضروت پڑنے پر اسے جوہری معاہدے سے پہلے کی پوزیشن پر لایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں کسی بھی رکاوٹ کے بغیر جاری ہیں۔

جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس کے واشنگٹن کے دورے کے دوران امریکی بیانات اور اس پر ایرنی ردود عمل زیر بحث امور کا حصہ ہوں گے۔ ہائیکو ماس پہلے ہی اس جانب اشارہ کر چکے ہیں کہ یورپی ممالک جوہری معاہدے کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تا کہ ایرانی جوہری پروگرام کے دوبارہ آغاز کے خطرے سے بچا جا سکے۔