.

امریکی پابندیاں، ’برٹش پٹرولم‘ بھی ایران سے واپس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی جانب سے ایران پر نئی اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں عالمی کمپنیوں کا ایران سے واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کئی یورپی اور غیرملکی سرمایہ کار کمپنیاں ایران سے واپس جا چکی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی پابندیوں کے خطرات کے پیش نظر ایران سے واپس ہونے والی کمپنیوں کی فہرست میں ’BP‘ برٹش پٹرولیم بھی شامل ہوگئی ہے۔

برٹش پٹرولیم سمندرمیں تیل اور گیس کے منصوبوں پر ایران کے ساتھ مل کر کام کررہی تھی۔ برٹش پٹرولیم شمالی اسکاٹ لینڈ میں ’الرام گیس فیلڈ میں ایران کے ساتھ مل کر کام کررہی تھی۔ اس منصوبے میں ’بی پی‘ اور ایران کی IOC کے 50، 50 فی صد مساوی شیئرز تھے۔

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ BP امریکا کی طرف سے عاید کردہ نئی پابندیوں کے تناظر میں ایران کے ساتھ مزید کام جاری رکھنے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کررہی ہے۔ ایران کے بارے میں امریکی انتظامیہ کے حالیہ اقدامات کے بعد کمپنی ایران سے متعلق اپنے بعض منصوبوں پر کام کو موخر کررہی ہے۔

خیال رہے کہ ماضی میں بھی ’BP‘ ایران پر عاید کردہ پابندیوں کے دوران ایسے حالات کا شکار ہوئی ہے۔ اس نے بحر شمال میں اپنے حصص برطانیہ کی سیریکا انرجی کمپنی کو فروخت کردیے تھے۔

یہ دونوں کمپنیاں امریکی پابندیوں کے بعد ’Rhum‘ پروجیکٹ پر کام جاری رکھنے کے لیے مطلوبہ ضمانتوں کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ اگر انہیں پابندیوں سے بچنے کی ضمانت نہیں ملتی تو وہ ایران میں کام چھوڑ سکتی ہیں۔

منگل کے روز ‘سیریکا انرجی‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ طے پائے معاہدے پر کام جاری رکھنے کی پابند ہے اور اسے توقع ہے کہ وہ رواں سال کی تیسرے چوتھائی میں اپنے منصوبے مکمل کرلے گی۔