.

حجر اسود کو قریب ترین مقام سے دیکھیے !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خانہ کعبہ میں چاندی کے فریم میں نصب حجر اسود کی انتہائی نزدیک سے لی گئی تصویر اس مقدس پتھر کے ٹکڑوں کا حجم ظاہر کرتی ہے۔ حجر اسود درحقیقت ایک پتھر کا نام نہیں بلکہ یہ 8 چھوٹے چھوٹے پتھروں کا مجموعہ ہے۔ ان میں سب سے چھوٹے ٹکڑے کا حجم 1 سینٹی میٹر اور سب سے بڑا ٹکڑا 2 سینٹی میٹر حجم کا ہے۔ ان تمام ٹکڑوں کو خاص درختوں سے حاصل شدہ خوشبو دار بروزے کے اندر جوڑا گیا ہے۔

سال 339 ہجری میں قرامطہ (اسماعیلی شیعہ فرقہ) نے حجر اسود کو نکال کر اسے پہلے الاحساء اور پھر عراق منتقل کر دیا جہاں اس کو توڑا گیا۔ بعد ازاں یہ ٹکڑے ایک مرتبہ پھر خانہ کعبہ میں اپنے مقام پر پہنچ گئے۔

اندازہ ہے کہ قرامطہ کے ہاتھوں ٹوٹنے سے قبل حجر اسود 110 سینٹی میٹر کا ایک ہی ٹکڑا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام سے قبل اسی حالت میں حجر اسود کو اپنے دست مبارک سے خانہ کعبہ میں نصب کیا تھا۔

معروف کُرد مصوّر اور خطاط محمد الکردی کے مطابق حجر اسود میں نظر آنے والے ٹکڑوں کی تعداد پہلے پندہ تھی تاہم بعد ازاں اس کی درستی اور مرمت کی کارروائیوں کے دوران یہ ٹکڑے کم ہو کر آٹھ ہو گئے۔

تاریخی ذرائع کے مطابق سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حجر اسود کو خانہ کعبہ میں نصب کیا۔ اس جنت کے پتھر کو جبریل علیہ السلام نے لا کر خلیل اللہ کے سامنے پیش کیا تھا۔

مؤرخین کے مطابق دوسرا واقعہ وہ ہے جب اسلام سے قبل قریش کے اندر اختلاف پیدا ہو گیا کہ اس پتھر کو خانہ کعبہ میں کون نصب کرے گا۔ اس موقع پر طے ہوا کہ بیت اللہ میں سب سے پہلے داخل ہونے والے کو فیصلے کا اختیار ہو گا۔ اللہ کے حکم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے بیت اللہ میں داخل ہوئے۔ انہوں نے فیصلہ فرمایا کہ حجر اسود کو چادر میں رکھ کر تمام قبائل کے سردار اس کو مقررہ مقام تک پہنچائیں۔ اس کے بعد اللہ کے نبی نے خود اسے خانہ کعبہ میں نصب کیا۔

سن 64 ہجری میں پہلی مرتبہ حجر اسود میں اُس وقت دراڑ پڑی جب عبداللہ بن زبیر اور یزید بن معاویہ کے درمیان واقعات پیش آئے۔ اس موقع پر حجر اسود کو چاندی کے فریم سے جوڑا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب اس پتھر پر فریم لگایا گیا۔

بعد ازاں حجر اسود کو اس کی جگہ سے نکال لیا گیا اور وہ 22 برس تک خانہ کعبہ سے دُور رہا۔ بعد ازاں ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کی صورت میں اس کی واپسی ہوئی۔