.

اسرائیلی سپریم کورٹ نے فلسطینیوں کے سروں سے چھت چھین لی، جانئے کیسے؟

غرب اردن میں خان الاحمر گاؤں گرانے سے متعلق اعلیٰ اسرائیلی عدالت کا فیصلہ آ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی سپریم کورٹ نے یورپی ملکوں کی جانب سے مقبوضہ غرب اردن میں بدوؤں کے ایک گاؤں کو بچانے کی مہم کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جمعرات کے روز اسے گرانے کی منظوری دے دی۔

گاؤں کے بچاؤ کی مہم چلانے والوں نے بتایا کہ فیصلے کے بعد خان الاحمر نامی گاؤں کے بچاؤ کے تمام قانونی طریقے ختم ہو چکے ہیں۔ یہ گاؤں مشرقی یروشیلم میں متعدد یہودی بستیوں کے قریب واقع ہے۔

ایک سو اسی نفوس پر مشتمل گاؤں کو گرانے کی کارروائی کب شروع ہو گی، فیصلے میں اس کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ “ ہمیں خان الاحمر گاؤں میں بنائے گئے غیر قانونی رہائشی ڈھانچے مسمار کرنے سے متعلق اسرائیلی وزیر دفاع کے حکم میں مداخلت کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔”

خان الاحمر کے متاثرین کو دوسری جگہ منتقل کرنے سے متعلق دلائل کو ناقدین جبری منتقلی قرار دے رہے ہیں۔عدالت کے مطابق گاؤں متعلقہ حکام سے تعمیر کی اجازت کے بغیر آباد کیا گیا تھا۔

غرب اردن میں اسرائیل کے زیر نگین علاقوں میں ایسی تعمیرات کے لئے قانونی اجازت ناموں کا حصول فلسطینیوں کے لئے ناممکن ہوتا ہے۔

بدوؤں کے گاؤں کے بچاؤ کا مقدمہ لڑنے والے وکیل شلومو لیکر نے بتایا کہ “اعلیٰ اسرائیلی عدالت نے فیصلے میں بدوؤں کو کم سے کم تحفظ دینے سے متعلق اپنے ہی سابقہ حکم کو بھی حتمی اعلان میں واپس لے لیا ہے۔”

ان کا کہنا تھا "کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے طے شدہ معیار کی روشنی میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ایسا فیصلہ صادر کر کے اسرائیلی عدالت نے انسانیت کے خلاف جرم کا ارتکاب کیا ہے۔"

گاؤں کے تحفظ کی جدوجہد کرنے والی یورپی حکومتیں یقیناً اس فیصلے پر اپنے غم وغصے کا اظہار کریں گی۔

گذشتہ ہفتے یروشیلم میں تعینات برطانوی قونصل جنرل نے خان الاحمر گاؤں کا دورہ کیا تھا اور وہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاملہ برطانیہ سمیت یورپی یونین کے لئے انتہائی تشویش کا ہے۔

اس سے قبل جمعرات ہی روز اسرائیلی وزیر دفاع ایویڈگور لائیبرمین نے غرب اردن میں یہودیوں کے لئے 2500 رہائشی یونٹس بنانے کا اعلان کیا تھا۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق مقبوضہ علاقوں میں بنائی جانے والی تمام یہودی بستیاں غیر قانونی ہیں۔