.

تصویریں بولتی ہیں ۔۔ کیا ایرانی مرشد اعلیٰ حکومتی اہلکاروں سے خوفزدہ ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سرکاری خبر رساں اداروں کی طرف سے جاری کردہ تصاویر کا ان دنوں سوشل میڈیا میں بڑا چرچا ہے جو سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے ہمراہ دوسرے حکومتی عہدیداروں کی ملاقات کے موقع پر لی گئی تھیں۔

"بولتی تصویروں" پر کئے جانے والے تبصروں میں کہا جا رہا ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین روحانی شخصیت حکومتی عہدیداروں پر انتہائی عدم اعتماد کا اظہار کرتی ہے یہی وجہ ہے ملاقات میں دونوں رہنما ایک فاصلے پر بیٹھے ہیں اور ایسی ملاقات میں ذاتی مخافظ کی موجودگی بھی عدم اعتماد کی کہانی پر مہر تصدیق ثبت کر رہی ہے۔

تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے ذاتی محافظوں نے حکومتی عہدیداران کے گرد گھیرا ڈال رکھا ہے اور ایک محافظ تو صدر جمہوریہ اور اسپیکر پارلیمنٹ کے درمیان بیٹھا ہے جبکہ ایک محافظ علی خامنہ کے عقب جبکہ دوسرے ملاقات میں موجود حکومتی عہدیداروں کے پیچھے کھڑے افراد کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کے مطابق کہ ایران کے سپریم لیڈر حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سے خوفزدہ ہیں، جنہیں اپنے روحانی قائد سے ملاقات کے لئے متعدد سیکیورٹی مراحل سے گذرنا پڑتا ہے۔

مرشد اعلیٰ نے گذشتہ بدھ حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی طرف سے تہران پر عائد نئی پابندیوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اپنا پہلا رد عمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ کئے گئے نیوکلیئر معاہدے کو مسترد کرنا ظاہر کرتا ہے کہ تہران اس کے ساتھ نہیں چل سکتا۔"

انھوں نے مزید کہا "کہ امریکا نے ایران میں رجیم تبدیلی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جس میں اسے ناکامی ہوئی اور بقول ان کے ہوتی رہے گی۔" "امریکا کے موجودہ صدر کا انجام اپنے پہلے صدور بش، نیو کنزرویٹوز اور ریگن جیسا ہی ہو گا۔ ان کا نام تاریخ سے مٹا دیا جائے گا۔"

مرشد اعلیٰ نے امریکا کے جوہری معاہدے سے علاحدہ ہونے کے بعد اسے برقرار رکھنے کے لئے شرائط کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یورپ یقین دہانی کرائے کہ وہ امریکی دباو کے علی الرغم ہم سے پٹرولیم مصنوعات اور خام تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔

علی خامنہ ای نے یورپ سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ جوہری معاہدہ جاری رکھنے کے لئے اپنے مطالبات کی فہرست سے بیلسٹک میزائل اور مشرق وسطیٰ میں ایرانی مداخلت جیسے امور شامل کرنے سے گریز کریں جبکہ یورپ کا اصرار ہے کہ تہران کو اگر جوہری معاہدہ پر عمل درآمد جاری رکھنا ہے تو متذکرہ امور کو مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل کرنا لازمی ہے۔