.

شام میں حزب اللہ کے اسلحہ ڈپو "نامعلوم" میزائل حملے میں تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حمص کے قریب الضبعہ نامی ہوائی اڈے کو نامعلوم فریق کی جانب سے میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ حملے کا نشانہ بننے والی تنصیبات سمیت اس بات کا تعین نہیں ہو سکا کہ حملہ کس نے کیا ہے۔

درایں اثنا انسانی حقوق کی آبزرویٹری نے دعوی کیا ہے کہ جمعرات کی شب میزائل حملے میں امکانی طور پر حمص کے الضبعہ فوجی ہوائی اڈے کے قریب لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا۔

آبزرویٹری کے مطابق حمص میں الضبعہ ہوائی اڈے اور ہوائی اڈے کے قریب ہی شہر کے مغربی علاقے پر چھ میزائل داغے گئے جن کا ہدف حزب اللہ کے اسلحہ گودام تھے۔ انسانی حقوق آبزرویٹری کا کہنا تھا کہ غالب امکان ہے کہ میزائل حملہ اسرائیل نے کیا۔

ادھر لبنانی ذرائع ابلاغ میں لبنان کی فضائی حدود میں اسرائیلی طیاروں کی پروازوں سے متعلق خبریں بھی تواتر سے آ رہی ہیں۔ اس بات کا غالب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل نے شام میں کل شب میزائل حملہ کے لئے لبنانی فضائی حدود استعمال کیں۔

امریکی وزارت دفاع پینٹاگان نے اس بات کی دوٹوک تردید کی ہے کہ شام کے الضبعہ فوجی ہوائی اڈے پر میزائل حملے میں واشنگٹن یا پھر بین الاقوامی اتحاد نے حصہ لیا ہے۔

پیٹاگان کے ترجمان ایرک بیھون نے روسی خبر رساں ایجنسی “تاس” کے ذریعے جاری کردہ بیان میں واضح کیا کہ یہ حملہ امریکا یا اتحادی فوج کی کارروائی نہیں تھی۔

یاد رہے کہ شامی شہر حمص کا علاقہ القصیر لبنانی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اسے ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب اور حزب اللہ کا اہم ٹھکانا خیال کیا جاتا ہے۔ نیز یہاں انہیں ملیشیاوں کے تربیتی مراکز اور اسلحہ گودام بھی موجود ہیں۔