عرب ممالک کے بائیکاٹ کے بعد قطر نے بہت کچھ کھو دیا: سلطان بن سحيم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قطری حکومت کے مخالف اور آل ثانی خاندان کے سرکردہ رہ نما شیخ سلطان بن سحیم آل ثانی کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس چاروں عرب ممالک کی جانب سے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد سے قطر کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں واضح کیا کہ دوحہ کے حکام نے دوڑ کر بہت سے دارالحکومتوں کو گئے اور ان کی کوششیں خاک میں مل گئیں۔ شیخ سلطان نے باور کرایا کہ جب تک قطب نما غیر متوازن ہے اس وقت تک قطر ہر گز کوئی حل نہیں پا سکے گا۔

جمعرات کے روز اپنی سلسلہ وار ٹوئیٹس میں سلطان بن سحیم کا کہنا تھا کہ "بائیکاٹ کو ایک برس گزر گیا۔ اس دوران میرے وطن نے بہت کچھ کھو دیا اور اپنے اطراف سے مزید دور ہو گیا۔ آل حمد کی حکومت کے مواقف پر ڈھٹائی چھائی ہوئی ہے۔ جب تک ان کی ہٹ دھرمی قائم ہے اس وقت تک انہیں عوام کے خسارے کی کوئی پروا نہیں"۔

شیخ سلطان کے مطابق "یہ لوگ یورپ گئے ان کا بحران حل نہ ہوا۔ روس کا رخ کیا ناکامی ان کا مقدر بنی۔ واشنگٹن کے لیے رخت سفر باندھا مگر ان کی امیدیں خاک میں مل گئیں۔ یہ لوگ اور زیادہ تھکتے رہیں گے اور طویل سفر کرتے رہیں گے تاہم جب تک قطب نما غیر متوازن ہے اس وقت تک حل ان کے ہاتھ نہیں آئے گا"۔

شیخ سلطان کا کہنا تھا کہ "ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کے ہر دن کی قیمت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب عوام کے مفادات سے کھیلا جائے۔ ہم ان کو فردا فردا ہر اس شخص کی یاد دلائیں گے جنہوں نے ان کے پڑوسی اور برادر ممالک سے قبل ہمارے سے خیانت کا ارتکاب کیا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں