.

روس کے ہاتھوں چوری کے الزام میں پکڑے گئے بشار کے جنگجوؤں کی "شرم ناک" تصاویر !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر چند گھنٹے پہلے روسی فوجی پولیس اہل کاروں کی بعض تصاویر گردش میں آئی ہیں جن میں انہوں نے گھروں میں چوری کرنے والے ایک گروپ کے ارکان کو پکڑا ہے جو شامی فوج کی سرکاری وردی میں ملبوس ہیں۔

کئی ویب سائٹوں نے ان تصاویر کو نشر کیا ہے جنہیں شامی حکومت کی فوج سے مبینہ تعلق رکھنے والے ارکان کے لیے "شرم ناک" قرار دیا گیا ہے۔ تصاویر میں شامی اہل کار ہتھیار ڈال کر پیٹ کے بل زمین پر لیٹے ہوئے ہیں جب کہ ان کے گرد روسی فوجی اہل کار اپنی سرکاری وردیوں میں موجود ہیں۔

شامی حکومت کے حامی بعض سوشل میڈیا صفحات کا کہنا ہے کہ پکڑے جانے والے ارکان کا تعلق بشار کی فوج سے نہیں بلکہ "پاپولر کمیٹیز" سے ہے۔ یاد رہے کہ پاپولر کمیٹیز شامی حکومت کی فوج کے زیر انتظام کام کرتی ہے۔

واضح رہے کہ بشار الاسد کی وزارت دفاع نے 2016ء میں ایک فیصلہ جاری کیا تھا جس میں اُن لوگوں کے سوا جن کو وزارت دفاع نے عسکری خدمات کا کارڈ جاری کیا ہو بقیہ تمام لوگوں کے لیے سرکاری فوجی وردی پہننے کو ممنوع قرار دیا تھا۔

شامی فوج کے ان مبینہ اہل کاروں کے ساتھ تصاویر میں ان کی جانب سے چوری کی گئی اشیاء بھی نظر آ رہی ہیں۔

شامی حکومت کی ہمنوا ایک ویب سائٹ کے مطابق روسی فوج نے دو ٹرکوں میں مسروقہ سامان بھر کر فرار کی کوشش کرنے والے چوروں کے ایک گروپ کو پکڑا۔ یہ واقعہ دمشق کے جنوب میں واقع قصبے "ببيلا" میں پیش آیا جس پر بشار حکومت نے حالیہ دنوں میں ہی کنٹرول حاصل کیا ہے۔

اس سے قبل اس خبر کی افواہ اڑی تھی کہ روسی فوجیوں نے رواں ماہ کی چودہ تاریخ کو شامی حکومت کے کئی فوجی اہل کاروں کو گرفتار کر لیا۔ روسی فوجیوں نے اس گروپ کو زدوکوب بھی کیا۔ گرفتار شدگان میں ایک سے زیادہ افسر شامل تھے۔

مذکورہ ہمنوا ویب سائٹ نے دو روز قبل پوسٹ میں بتایا تھا کہ روس کی فوجی پولیس نے ببیلا، یلدا اور بیت سحم کے قصبوں میں گھروں میں چوری کرنے اور ڈاکہ ڈالنے والے بعض ارکان کو گرفتار کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ البتہ گرفتار ہونے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ اسی ویب سائٹ نے ہفتے کے روز اعتراف کیا تھا کہ گرفتار ہونے والوں کا تعلق شام کی "پوپولر کمیٹیز" سے جو بشار حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں مصروف عمل ہے۔

شام میں اپوزیشن گروپوں سے واپس لیے گئے علاقوں میں "تعفیش" کے نام سے گھروں کے اندر وسیع پیمانے پر لوٹ مار اور ڈاکوں کا رجحان پھیل گیا ہے۔ حلب شہر میں بھی یہ "تعفيش" غیر مسبوق حد تک پھیل چکی ہے جس میں بشار فوج کے کئی افسران کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔