.

سعودی شہری نے ماں کو دفنایا اور چار گھنٹے بعد خود بھی چل بسا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"کیا ہم کوئی خواب دیکھ رہے ہیں؟ میری دادی اور والد کی تدفین کے درمیان صرف چار گھنٹوں کا وقفہ تھا۔ وہ والدہ کے ساتھ برتاؤ میں اتنے نیک تھے کہ مقدر نے بھی ان کو علاحدہ کرنے سے انکار کر دیا"۔ یہ تھے وہ الفاظ جن کے ذریعے سعودی دارالحکومت ریاض کے شہری محمد بن الشیخ سلیمان القنیطیر نے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ ان کی دادی اور والد ہفتے کی شام اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔

محمد القنیطیر نے غم کی اس رات پر روشنی ڈالتے ہوئے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "النسیم قبرستان میں میری دادی کو دفن کرنے کے بعد میرے والد اسی جگہ غشی کھا کر گر پڑے۔ ان کی روح نے قبرسان سے کوچ کرنے سے انکار کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ نماز تراویح کے بعد اپنی ماں کے پڑوس میں ہی دفن کیے گئے"۔

القنیطیر کے مطابق ان کے والد کی عمر 60 برس تھی اور وہ قرآن کریم کے معلم اور السلام مسجد کے امام کے طور پر اپنے فرائض انجام دیتے تھے۔ ان کے والد کی 10 اولاد ہیں اور القنیطیر کی ان سے آخری ملاقات ان کی دادی کی تدفین سے پہلے ہوئی تھی جب ان کے والد نے تمام لوگوں کو دعاء کی ہدایت کی تھی۔

اس حیرت انگیز واقعے کے متعلق ڈاکٹر حمزہ الطیار نے ٹوئیٹر پر تحریر کیا کہ "پاک ہے اللہ کی ذات جس کو فنا نہیں۔ سلیمان القنیطیر نے میرے ساتھ عصر میں اپنی ماں کا جنازہ پڑھا اور اسی روز عشاء کے بعد میں نے اس کا جنازہ پڑھا"۔