.

قطر بحران کے جلد خاتمے کی کوئی امید نہیں : بحرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین کا کہنا ہے کہ قطر اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری سفارتی بحران کے جلد حل کا کوئی امکان نہیں ہے۔بحرین کے علاوہ تین خلیجی عرب ممالک سعودی عرب ، مصر اور متحدہ عرب امارات نے گذشتہ سال جون میں قطر کے ساتھ سفارتی ، تجارتی اور کاروباری تعلقا ت منقطع کرلیے تھے اور ان کے بائیکاٹ کو ایک سال مکمل ہونے والا ہے۔

بحرینی وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد آل خلیفہ نے لندن سے شائع ہونے والے اخبار الشرق الاوسط سے اتوار کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’اس وقت ہمارے پاس موجود معلومات سے امید کی ایسی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی کہ یہ بحران اب جلد حل ہونے کو ہے کیونکہ یہ معاملہ اچانک رونما نہیں ہوا تھا‘‘۔

مذکورہ چاروں ممالک نے قطر پر ایران اور دہشت گردی کی حمایت کا الزام عاید کیا تھا۔قطر نے اس الزام کی تردید کی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ بائیکاٹ دراصل اس کی خود مختاری کو متاثر کرنے کے لیے مسلط کیا گیا ہے۔

کویت اور امریکا نے گذشتہ ایک سال کے دوران میں قطر اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان بحران کے خاتمے کے لیے مصالحتی کوششیں بھی کی ہیں لیکن ان کی یہ کوششیں رائیگاں چلی گئی ہیں کیونکہ قطر لچک دکھانے کو تیار نہیں ہوا اور اس نے دہشت گردی مخالف ان چاروں ممالک کی پیش کردہ تیرہ مطالبات کی فہرست کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

بحرینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ قطر اس معاملے کو خلیجی عرب بلاک سے مل بیٹھ کر طے کرنے کے بجائے اپنے مغربی اتحادیوں کے پاس لے جاکر بحران کو طول دے رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ’’ ہم بحران کے آغاز میں یہ توقع کررہے تھے کہ امیر قطر شیخ تمیم سعودی عرب جائیں گے اور وہاں اس معاملے کو طے کرنے کی کوشش کریں گے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا ہے‘‘۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکام کا کہنا ہے کہ قطر نے ابھی ان کے تیرہ مطالبات میں سے کسی ایک کو بھی پورا نہیں کیا ہے۔ان میں ایک مطالبہ قطر کے ملکیتی الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کی بندش اور ایک ایران سے تعلقات منقطع کرنے سے متعلق ہے۔

امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے گذشتہ ہفتے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’قطر نے دانش مندی سے ان مطالبات پرغور کیا اور نہ ان کا کوئی جواب دیا ہے۔شاید بائیکاٹ کا ایک سال پورا ہونے کے بعد دوحہ حکومت کسی نئی سوچ اور دانش مندانہ حکمت عملی کا مظاہرہ کرے‘‘۔