.

یمن سے حوثی قیادت کے فرار کے لیے ایرانی منصوبے کی اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن بعض ذرائع نے باور کرایا ہے کہ صعدہ صوبے میں حوثیوں کے گڑھ میں موجود سینئر قیادت نے فرار کے انتظامات شروع کر دیے ہیں۔ یہ پیش رفت باغیوں کے گرد گھیرا تنگ ہونے اور مختلف محاذوں پر پے درپے شکستوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

صعدہ میں مقامی اور انٹیلی جنس ذرائع نے واضح کیا ہے کہ حوثی رہ نماؤں نے بعض اثاثوں کو پیش کیا ہے جو انہوں نے فروخت کے لیے ہتھیا لیے تھے۔ بعض دیگر اثاثوں کی ملکیت غیر معروف تجارتی قبائلی شخصیات کے نام منتقل کر دی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا نے مغربی ساحل کے محاذ سے اپنے اکثر جنجگوؤں کو واپس بلا لیا ہے تا کہ باغیوں کے مرکزی گڑھ کا دفاع کیا جا سکے۔ اس دوران حوثی رہ نماؤں کو فرار کے لیے وقت بھی مل جائے گا۔ ذرائع کے مطابق حوثی قیادت کو یقین ہو چلا ہے کہ ان کا اختتام قریب آ چکا ہے کیوں کہ سرکاری فوج کی بڑے پیمانے پر پیش قدمی کو یقنی بنایا جا رہا ہے۔ یمنی فوج آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کی مدد سے الحدیدہ شہر اور اس ک یبندرگاہ کی جانب آگے بڑھتی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق بعض حوثی رہ نما یمنی حکومت سے رابطے کی کوششیں کر رہے ہیں تا کہ اپنی پوزیشن کو محفوظ بنا سکیں۔ عوامی مزاحمتی تحریک کے حوالے سے حوثیوں کی صفوں میں افراتفری اور اندیشے پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ امر حوثیوں کے انقلاب کے جلد سقوط اور یمن میں ایران کے منصوبے کے دفن ہو جانے کے سلسلے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔

ادھر ایران میں جرائم سے متعلق تحقیقاتی مرکز ISICRC نے جمعے کے روز بتایا کہ حالیہ عرصے میں زمینی اور سیاسی طور پر حوثیوں کو درپیش ابتر حالات کے پیش نظر تہران آئندہ تین روز کے دوران حوثیوں کے سرغنے عبدالملک الحوثی کو فرار کرانے کے لیے کوشاں ہے۔

مرکز کی رپورٹ کے مطابق یمن میں 19 اپریل کو سعودی عرب کے زیر قیادت عرب اتحاد کی فورسز کے ہاتھوں حوثیوں کے ایک اہم ترین کمانڈر صالح الصماد کے مارے جانے کے بعد ملک میں سورت حال حوثیوں کے حق میں نہیں رہی۔

رپورٹ میں غیر مذکورہ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ "حوثی قیادت نے اب عبدالملک الحوثی کو فرار کروانے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا ہے۔ انہیں حوثی جماعت کے ارکان کا مورال گر جانے کا اندیشہ ہے۔ وہ خطے میں تہران کی ہیبت برقرار رکھنا چاہتے ہیں"۔ ذرائع کے مطابق عبدالملک الحوثی کو بحفاظت نکال لینے کا منصوبہ وضع کر لیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی براہ راست نگرانی ایرانی تنظیم فیلق القدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے پاس ہے۔