.

الحدیدہ کے تین اہم علاقے آزاد، حوثی جنگجوؤں کا غیر معمولی نقصان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی ساحلی گورنری الحدیدہ میں حکام کاکہنا ہے کہ عرب اتحادی فوج کی مدد سے سرکاری فوج اور حکومت نواز مزاحمتی فورسز نے الحدیدہ کے تین اہم ڈاریکٹوریٹس کو باغیوں سے آزاد کرالیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الحدیدہ کےگورنر الحسن طاھر نے اتوار کے روز ایک بیان میں بتایا کہ سرکاری فوج عرب اتحادی فوج کی مدد سے تیزی کے ساتھ الحدیدہ شہر میں پیش قدمی کررہی ہے۔ گذشتہ دو روز کےدوران تین اہم علاقوں سے باغیوں کو نکال دیا گیا ہے۔

الحسن طاھر نے الحدیدہ کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ باغیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور حکومتی فوج کا استقبال کریں اور اس کی بھرپور مدد کریں تاکہ جلد از جلد شہر کو باغیوں سے نجات دلائی جاسکے۔

دوسری جانب حوثی ملیشیا کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے یمن کے مغربی ساحلی محاذ پر پے درپے شکست کا اعتراف کیا ہے۔ ان کی طرف سے اپنی شکست کے اعتراف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب الحدیدہ گورنری کے کئی اہم علاقوں کو حوثی شدت پسندوں سے چھڑا لیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق تازہ آپریشن میں سرکاری فوج نے الحدیدہ کے التحیتا، بیت الفقیہ، زبید اور الدریھمی ڈاریکٹوریٹس کو باغیوں سے چھڑالیا گیا ہے۔

ملک کے مغربی ساحلی محاذ پر باغیوں کو مسلسل شکست دینے کے ساتھ انہیں غیرمعمولیی جانی اور مالی نقصان بھی پہنچایا گیا ہے۔ باغیوں نے اعتراف کیاہے کہ الحدیدہ اور دیگر محاذوں پر انہیں حکومتی فوج کےسامنے جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

حوثی لیڈروں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ الحدیدہ میں باغیوں کے خالف لڑائی کے دوران باغیوں کی صفوں میں پھوٹ پڑ چکی ہے۔ بعض حوثی لیڈروں نے اپنے جنگجوؤں سے الحدیدہ میں حکومتی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی اپیلیں کی گئی اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ میدان جنگ سے فرار اختیار نہ کریں۔