.

ایران کی شام میں کوئی فوجی موجودگی نہیں ہونی چاہیے: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ شام میں ایران کی کوئی فوجی موجودگی نہیں ہونی چاہیے اور وہ آیند ہ ہفتے جرمن اور فرانسیسی لیڈروں سے ملاقات میں ان پر یہ زور دیں گے کہ وہ ایران سے متعلق ان کے اس موقف کی حمایت کریں۔

نیتن یاہو چار سے چھے جون تک جرمنی اور فرانس کے دورے پر جارہے ہیں ، جہاں وہ چانسلر اینجیلا میرکل اور صدر عمانوایل ماکروں سے امریکا کے ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے سے انخلا اور شام میں اس کی فوجی موجودگی کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔ مسٹر نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ شاید برطانوی وزیراعظم تھریزا مے سے بھی ملاقات کریں۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق نیتن یاہو نے اپنی جماعت لیکوڈ کے سینیر لیڈروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا :’’ ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ شام کے کسی بھی حصے میں ایران کی فوجی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہے‘‘۔

انھوں نے کہا :’’ یہ صرف ہمارا ہی موقف نہیں بلکہ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اس سے مشرق وسطیٰ اور اس سے ماورا ممالک کے موقف کی بھی عکاسی ہوتی ہے اور یہ معاملہ میری گفتگو کا مرکزی موضوع ہوگا‘‘۔

واضح رہے کہ اسرائیل گذشتہ ایک عرصے سے ایران کی شام میں فوجی موجودگی کے خلاف مہم چلا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کے ہمسایہ ملک کے کسی بھی علاقے میں ایران کے فوجی یا اس کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیائیں موجود نہیں ہونی چاہییں۔ایران شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت کررہا ہے اور اس کے فوجی اور شیعہ ملیشیائیں شامی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑرہی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے اسی ماہ کے اوائل میں شام میں ایران کے مبینہ بڑے اہداف پر حملہ کیا تھا۔اس نے یہ کارروائی شام سے اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی چوٹیوں کی جانب راکٹ فائر کیے جانے کے بعد کی تھی ۔اسرائیلی فوج نے اس حملے سے قبل بھی شام میں متعدد تباہ کن فضائی حملے کیے تھے اور ان میں بعض ایرانی فوجی اور حزب اللہ کے جنگجو ہلاک ہوگئے تھے لیکن اس نے کبھی ان حملوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔