.

بائیکاٹ جاری رہنے کی صورت میں حکومتی امداد طلب کر سکتے ہیں : قطر ایئرویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی فضائی کمپنی نے پہلی مرتبہ تسلیم کیا ہے کہ وہ مالی بحران سے بچنے کے لیے دوحہ سے سرکاری امداد طلب کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔ یہ صورت حال عرب اور خلیجی ممالک کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ کا نتیجہ ہے۔ اس کے تحت خلیج کے تین ممالک سعودی عرب، امارات اور بحرین کے علاوہ مصر نے اپنی فضائی حدود کو قطر ایئرویز کے طیاروں کے لیے بند کر رکھا ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ کمپنی کی زیادہ تر پروازیں گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ طویل رُوٹس اپنا رہی ہیں۔

مذکورہ چاروں ممالک نے گزشتہ برس جون میں قطر کے ساتھ اپنے تمام تر سفارتی، سیاسی اور تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سعودی عرب نے تو فضائی حدود کے علاوہ قطر کے ساتھ اپنی زمینی سرحد کو بھی بند کر دیا تھا۔ قطر ایئرویز گزشتہ مہینوں کے دوران یہ تاثر دیتی رہی ہے کہ عرب ممالک کے بائیکاٹ نے اس کے آپریشن اور پروازوں پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔

قطر ایئرویز کے چیف ایگزیکٹو اکبر الباکر نے برطانوی اخبار سنڈے ٹیلیگراف کو دیے گئے بیان میں تسلیم کیا ہے کہ قطر پر عائد بائیکاٹ جاری رہنے کی صورت میں ان کی کمپنی سرکاری امداد یا ریسکیو پلان کے مطالبے پر مجبور ہو سکتی ہے۔

الباکر جو 1997ء سے قطر ایئرویز کے انتظامی امور چلا رہے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ "فی الحال ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ البتہ بائیکاٹ جاری رہا تو مجھے یقین ہے کہ حکومت ایک بڑی رقم کے لیے تیار ہو گی۔ اس لیے کہ قطر ایئرویز ملک کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے"۔

سنڈے ٹیلی گراف کے مطابق چار عرب ممالک کے بائیکاٹ کے بعد سے قطر ایئرویز اب تک 19 مقامات کے لیے اپنی پروازیں ختم کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی کے طیاروں کو بائیکاٹ والے ممالک کی فضائی حدود سے اجتناب کے واسطے زیادہ طویل رُوٹس اپنانے پڑ رہے ہیں۔

ادھر امریکی حکام اور فضائی کمپنیاں پہلے ہی یہ الزام عائد کر چکی ہیں کہ قطر ایئرویز سمیت کئی فضائی کمپنیاں ہیں جو اپنی حکومتوں سے سپورٹ حاصل کر رہی ہیں۔ یہ امر دیگر کمپنیوں کے ساتھ اس کے مقابلے کو غیر منصفانہ بناتی ہیں۔

تاہم الباکر نے سنڈے ٹیلی گراف کو دیے گئے بیان میں واضح کیا کہ "سرمایہ کاری اور مالی امداد میں فرق ہے"۔ ان کی مراد یہ تھی کہ قطر ایئرویز خود کو ڈھیر ہونے سے بچانے کے لیے حکومتی سپورٹ طلب کر سکتی ہے اور یہ اقدام مارکیٹ میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے نہیں ہو گا۔