.

حزب اللہ کی صلاحیتوں پر کاری ضرب لگانا امریکا کی اولین ترجیح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں انتخابات کے انعقاد کو تین ہفتے گزر چکے ہیں اور ابھی تک وہائٹ ہاؤس یا امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا جس میں نتائج پر لبنانیوں کو مبارک باد پیش کی گئی ہو۔ البتہ بیروت میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں لبنانیوں کو انتخابی نتائج نہیں بلکہ صرف انتخابی عمل کی مبارک بادید نے پر اکتفا کیا گیا۔ بنیہ بری کے پارلیمنٹ کے اسپیکر منتخب ہونے یا سعد حریری کو حکومت تشکیل دینے کی ذمے داری سونپے جانے کے حوالے سے بھی واشنگٹن کی جانب سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

امریکی وزارت خارجہ اس بات پر مطمئن تھی کہ انتخابات کے نتائج حزب اللہ ملیشیا اور اس کے حلیفوں کو نہیں نوازیں گے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک ذمّے دار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نہیں سمجھتے کہ سابقہ حکومت کے لحاظ سے قوتوں کا پلڑا تبدیل ہو گا۔ لبنانی حکومت کی تشکیل کا عمل جاری ہے اور ہم اس کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں"۔

دوسری جانب العربیہ کو معلوم ہوا ہے کہ بیروت میں امریکی سفارت خانے نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا ہے کہ لبنانی انتخابات کے نتائج امریکی سفارت خانے اور خاتون سفیر الزبتھ رچرڈز کی توقعات سے زیادہ برے آئے ہیں۔

پارلیمنٹ میں شام اور بشار حکومت کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہو گئی ہے۔ حالیہ وزیر اعظم سعد الدین حریری کا بلاک اور ان کی مقبولیت گھٹ کر کم ہو چکی ہے۔ لہذا ایران، شام اور حزب اللہ کے رسوخ کے آگے مزاحم رکاوٹ کمزور پڑ گئی ہے۔

واشنگٹن کے نزدیک سعد الدین حریری اس کے حلیف ہیں اور وہ ایران اور حزب اللہ کے رسوخ کے جال میں نہیں پھنس سکتے۔ بالخصوص جب کہ جزب اللہ ملیشیا کے ارکان پر سعد حریری کے والد رفیق حریری کے قتل کا الزام ہے جو 2005ء میں ایک بم دھماکے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ تاہم المستقبل گروپ کی مقبولیت اور نشستوں کے خسارے سے شام اور ایران کے حلیفوں کو موقع ملے گا کہ وہ اپنا رسوخ پھیلائیں۔ دوسری جانب واشنگٹن چاہتا ہے کہ عرب ممالک میں ایران کے رسوخ کا بھرپور مقابلہ کیا جائے۔

امریکی انتظامیہ اب لبنانی حکومت کی تشکیل کا انتظار کر رہی ہے تا کہ حزب اللہ پر اضافی پابندیاں عائد کیے جانے کے حوالے سے فیصلے سامنے آ سکیں۔ ادھر کانگریس بھی حزب اللہ پر پابندیوں کے قانون کے دوسرے ایڈیشن کی منظوری کی تیاری کر رہی ہے۔

یہ قانون کانگریس میں تاخیر کا شکار ہو گیا تھا کیوں کہ امریکی وزارت خارجہ بالخصوص بیروت میں امریکی خاتون سفیر الزبتھ رچرڈز نے 2017ء کے دوران کانگریس کے ارکان کو اس بات پر قائل کیا تھا کہ قانون کو مؤخر کر کے لبنانیوں کو انتخابات کے اجرا کا موقع دیا جائے۔ اس امید پر کہ حزب اللہ اور شام کے حلیف کمزوں ہوں گے جب کہ سعد حریری زیادہ طاقت کے ساتھ نمایاں ہو کر سامنے آئیں گے۔ تاہم اب امریکی سفیر محسوس کر رہی ہیں کہ قانون کو مزید مؤخر کرنے کا کوئی سبب موجود نہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ حزب اللہ کے خلاف بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور امریکی وزارت خزانہ نے ایران نواز ملیشیاؤں کے متعدد ارکان کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "حزب اللہ کی دہشت گرد اور عسکری صلاحیتوں پر کاری ضرب لگانا امریکی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ شروع سے ہی حزب اللہ کی دہشت گرد سرگرمیوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں جن کا مقصد خطے میں شورشیں پھیلانا ہے"۔ ترجمان کے مطابق حزب اللہ کی مجرمانہ سرگرمیوں کو معطل کرنے کے لیے امریکا اپنے طور دستیاب تمام تر اختیارات اور وسائل کو بروئے کار لائے گا۔

ابھی تک امریکیوں نے حزب اللہ کی شخصیات پر پابندیاں عائد کرنے پر اکتفا کیا تاہم اب وہ حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ یا حکومت کے ارکان کو پابندیوں کی لپیٹ میں لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان کے مطابق امریکا حزب اللہ کے سیاسی اور عسکری دھڑ میں کوئی فرق نہیں کرتا۔

اس طرح لبنانی پارلیمںٹ میں حزب اللہ اور اس جیسی حلیف جماعتوں پر ایک مرتبہ پھر پابندیوں کی تلوار لٹک رہی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار نے اپنے ملک کے سرکاری موقف کو دہرایا ہے جس میں تمام لبنانیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی وابستگیوں سے قطع نظر لبنان کی بین الاقوامی پاسداریوں کا تحفظ کریں، ان میں سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 1559 اور1701 کے علاوہ بیرونی تنازعات سے خود کو الگ تھلگ رکھنا شامل ہے۔

تاہم وہائٹ ہاؤس حزب اللہ کے کردار کو زیادہ سخت گیری کے ساتھ دیکھتا ہے اور اسے ایران کا دست راس شمار کرتے ہوئے زیادہ سخت لہجہ استعمال کر رہا ہے۔ امریکا نے اب لبنان میں ایران کے رسوخ کا مقابلہ کرنے اور اس پر قابو پانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔