.

دباؤ سے مجبور ہو کر ایران یورپی یونین کے ساتھ یمن کے حوالے سے مذاکرات پر آمادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقجی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک علاقائی معاملات کے حوالے سے یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہو گیا ہے۔

اتوار کی شام ایرانی ٹیلی وژن کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ "ایران نے یورپی یونین کے ساتھ صرف یمن کے حوالے سے مذاکرات کو قبول کیا ہے اور وہ بھی انسانی وجوہات کے سبب"۔

عراقجی نے واضح کیا کہ اگر یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچے تو تہران جوہری معاہدے پر کاربند نہیں رہے گا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق مذاکرات ابھی تک مطلوبہ نتائج کو یقینی نہیں بنا سکے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران نے اپنے متنازع میزائل پروگرام کے حوالے سے مذاکرات مسترد کر دیے۔

عراقجی نے بتایا کہ تینوں یورپی ممالک (جرمنی، فرانس اور برطانیہ) نے اپنے بیانات میں باور کرایا ہے کہ وہ ایران کے لیے مجوزہ اقتصادی پیکج تیار کریں گے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جوہری معاہدے سے امریکا کی علاحدگی کے بعد بڑی یورپی اور عالمی کمپنیوں نے یکے بعد دیگرے ایران سے انخلاء کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے جمعے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی نظام مشرق وسطی میں امن و استحکام اور اس کے بعد امریکی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ پومپیو نے باور کرایا کہ واشنگٹن کی جانب سے متعین کردہ 12 شرائط تہران سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ شام، یمن، لبنان اور عراق میں اپنی مہم جوئی کا سلسلہ روک دے۔ اسی طرح دنیا بھر میں دہشت گردی پھیلانے اور ملیشیاؤں کو جنم دینے سے بھی رک جائے۔