.

سعودی طالبہ نے نابیناؤں کے لیے ایک نئی زبان ایجاد کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شہر ظہران میں سیکنڈری اسکول کی ایک 14 سالہ طالبہ نے ایک نئی زبان ایجاد کی ہے جو نابینا اور بصری معذوری کا شکار افراد کے لیے مطالعے میں مددگار ثابت ہو گی اور ان افراد کے دوسرے لوگوں کے ساتھ رابطے کو آسان بنا دے گی۔

سعودی طالبہ "تالہ ابو النجا" کی اسکول میں ایک نابینا لڑکی سے ملاقات ہوئی تھی جس کو "بریل" میں پڑھتے ہوئے دشواری کا سامنا ہوتا تھا۔ اس کے بعد تالہ نے اپنی تحقیقی سرگرمیوں کو بڑھا دیا اور اس دنیا کے نئے رموز و اسرار سے آشنا ہوئی۔

تالہ کے نزدیک بریل میں درپیش دشواری صرف اس کی اسکول کی دوست کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پوری دنیا میں بصارت سے محروم افراد کا مسئلہ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے لیے ایک وڈیو میں تالہ نے اپنی اس ایجاد کے بارے میں تفصیل سے بتایا جس کے ذریعے سماجی علوم کے میدان میں تالہ کو تیسری پوزیشن حاصل ہوئی۔ علاوہ ازیں امریکی سائیکولوجی سوسائٹی نے تالہ کو ایک خصوصی ایوارڈ سے بھی نوازا۔

تالہ کے مطابق اس نئی ایجاد کا مقصد ایک نئی زبان کو وجود میں لانا تھا جو عربی زبان کے حروف کی بناوٹ پر مشتمل ہو۔ تا کہ نابینا شخص اس بناوٹ کی بنیاد پر پڑھ سکے۔

تالہ نے واضح کیا کہ انہوں نے عربی زبان کے 28 حروف کو 3 بنیادی گروپوں میں تقسیم کیا۔ اس کے بعد ہر گروپ کے لیے مقررہ نمونوں کے ذریعے تشکیل کی علامات وضع کیں تا کہ نابینا اور بصارت کی کمزوری اور معذوری میں مبتلا افراد کے کام آ سکے۔

تالہ کے نزدیک یہ ضروری نہیں کہ بصارت سے محروم شخص الفاظ کو اسی طریقے سے سمجھے جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں۔ تالہ کے تخلیقی جدّت کے حامل کام نے نابینا افراد کے لیے عربی کے حروف کا ادراک حاصل کرنا آسان بنا دیا ہے۔ اس ایجاد کو استعمال کر کے معذور افراد کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو گا اور وہ نفسیاتی اور سماجی طور پر خود کو زیادہ بہتر محسوس کریں گے۔