.

حماس کے قیدیوں کو جیل میں فٹبال ورلڈ کپ نہیں دیکھنے دوں گا: اسرائیلی وزیر کی بڑھک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اسیران کی زندگی کو جہنم زار بنانا اسرائیلی جیلروں کا من پسند مشغل چلا آ رہا ہے، تاہم اس ضمن میں نیا اضافہ داخلی سلامتی کے اسرائیلی وزیر گیلاڈ اردان کا وہ بیان ہے جس میں انھوں نے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی اسیران بالخصوص حماس سے تعلق رکھنے والے قیدیوں پر جیل عالمی فٹبال کپ کے مقابلہ دیکھنے پر پابندی لگانے کی دھمکی دی ہے۔

گیلاد ادران نے وائی نیٹ خبر رساں ویب سائٹ پر ایک بیان میں واضح کیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلی فوجیوں کی رہائی تک حماس اسیران جیلوں میں فٹبال ورلڈ کپ سے محظوظ ہوں۔انہوں نے اسرائیلی جیلروں پر زور دیا ہے کہ وہ زیر حراست فلسطینی اسیران سے سختی سے پیش آئیں۔

حالیہ رائج قوانین کے مطابق دوران حراست ٹیلی ویژن سے محظوظ ہونا قیدیوں کا بنیادی حق ہے لیکن داخلی سلامتی کے اسرائیلی وزیر نے کہا ان کی یہ کوشش ہو گی کہ فٹبال بال ورلڈ کپ کے دوران ٹیلی ویژن دیکھنے کا دورانیہ تبدیل کرا دیں تاکہ اسیران اپنے اس بنیادی حقوق سے محروم رہیں۔

اسرائیلی وزیر نے مزید کہ "ایسے اسیران جو دہشت گردی پھیلانے میں معاونت کرتے ہیں ان کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ ایسے کھیلوں کے مقابلوں سے مفید ہوں سکیں جو اقوام عالم میں اتحاد و یگانگت کا درس دیتے ہیں"

اسرائیلی وزیر کا ماننا ہے 2014 کی غزہ جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے دو اسرائیلی فوجیوں ، اوران شاول اور حدار گولڈن کی لاشیں تاحال حماس کی تحویل میں ہیں۔

واضح رہے کہ فلسطینی اسیران کلب کے مطابق اسرائیلی جیلوں ٘قید فلسطینیوں کی کل تعداد تقریباً 6500 ہے۔