‏سعودی وزارت داخلہ کا ڈرائیونگ کے دوران خواتین کے مکمل احترام پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی وزیر داخلہ کے معاون برائے آپریشنز سعید القحطانی کا کہنا ہے کہ مملکت میں خواتین کے گاڑی چلانے کے حوالے سے تمام امور مکمل کر لیے گئے ہیں اور اس سلسلے میں شاہی فرمان پر عمل درامد اپنے وقت پر ہو گا۔

القحطانی نے خواتین کی جانب سے ٹریفک کی خلاف ورزیوں اور ان کو حراست میں رکھنے کے لیے کمرے بنائے جانے کے حوالے سے کہا کہ " ہمیں اس نا امیدی کی کیا ضرورت ہے۔ ہم حراستی کمروں سے آغاز کیوں کریں ؟ اللہ نے چاہا تو خواتین کی جانب سے ٹریفک کی خلاف ورزیاں نہیں ہوں گی۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ خواتین کی ڈرائیونگ زیادہ سلامتی کی حامل اور محفوظ ہو گی اور اس حوالے سے شاذ و نادر ہی کسی حراست کی نوبت آئے گی"۔

انہوں نے یہ بات اتوار کے روز جدہ میں ٹریفک سے متعلق ایک خصوصی فورم کے افتتاح کے موقع پر کہی۔

القحطانی کے مطابق وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف ٹریفک کے حوالے سے جدید ترین ٹکنالوجی کے استعمال پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ روڈ سکیورٹی کے لیے ٹکنالوجی کو وسیع پیمانے پر استعمال میں لایا جا رہا ہے۔

القحطانی نے اس جانب توجہ دلائی کہ جنرل سکیورٹی اور دیگر سکیورٹی سیکٹروں میں تربیت یافتہ خواتین پہلے سے موجود ہیں جن کی تعداد میں اضافے کی ضرورت ہے۔ وزیر داخلہ کے معاون نے بتایا کہ عسکری شعبوں اور دیگر شہری اسامیوں کے سلسلے میں خواتین کی بھرتی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

القحطانی نے باور کرایا کہ آئندہ ماہ سے مملکت میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت سے متعلق شاہی فرمان پر عمل درامد شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک کے کام آئے گا اور گھروں کے اندر موجود ورکروں کو کم کرے گا۔

القحطانی کے مطابق خواتین کے ساتھ مکمل احترام اور اعتماد کے ساتھ برتاؤ کیا جانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں