سعودی عرب : ہراسیت پر روک لگانے کے لیے قانون کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں مجلس شوری (پارلیمنٹ) نے انسداد ہراسیت کے قانون سے متعلق قرارداد کی منظوری دے دی ہے۔ قانون کا منصوبہ وزارت داخلہ نے شاہی فرمان پر تیار کیا تھا۔

یہ قانون 8 شقوں پر مشتمل ہے۔ اس کا مقصد ہراسیت کے جرم کا انسداد، اس کے مرتکب افراد پر سزا کا نفاذ، جرم کا شکار ہونے والے کا تحفظ اور اس کی عزت و توقیر اور شخصی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔

قانون کے تحت ہراسیت کے جرم کے ارتکاب پر ملنے والی سزا دو سال جیل اور ایک لاکھ ریال جرمانہ یا دونوں میں کوئی ایک ہو سکتی ہے۔ قید کی سزا زیادہ سے زیادہ پانچ برس تک بڑھائی جا سکتی ہے اور جرمانے کی رقم تین لاکھ ریال سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

اس کے علاوہ ہراسیت پر اکسانے ، اس پر متفق ہونے یا کسی بھی صورت میں ارتکاب میں مدد کرنے پر بھی مقررہ سزا کا نفاذ ہو گا۔

ہراسیت کے کسی بھی ارتکاب سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے کی شناخت کو مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھا جائے گا اور اس کا شکار ہونے والے کی شناخت کسی بھی صورت میں ظاہر نہیں کی جائے گی سوائے اُس وقت جب کہ تحقیق یا عدالتی کارروائی میں اس کی ضرورت پیش آئے۔

ادھر سرکاری سیکٹر میں متعلقہ اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ہراسیت سے تحفظ کے لیے مطلوبہ اقدامات کریں۔ ساتھ ہی اس حوالے سے شکایت وصول کرنے کا طریقہ کار وضع کرنے اور اور شکایت کے مستند اور درست ہونے کی جانچ کو یقینی بنائیں۔

یاد رہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے وزارت داخلہ کو اس نظام کی تیاری کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی تھیں تا کہ معاشرے اور افراد کو اس کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں