.

کنوئیں کا مینڈک بننے کی پالیسی نے قطر کا بحران ختم نہیں کیا: قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے منگل کے روز اپنی سلسلہ وار ٹوئیٹس میں تحریر کیا ہے کہ "مجھے ایک مغربی صحافی نے بتایا کہ صحافتی وفود معاوضے کے ساتھ تعطیلات کے سلسلے میں دوحہ کا رخ کر رہے ہیں جہاں قطر کے تنہا ہونے کی سال گرہ منائی جا رہی ہے۔ کنوئیں کا مینڈک بننے کی پالیسی نے قطر کا بحران ختم نہیں کیا اس لیے کہ وہ وجوہات سے نہیں نمٹا اور اس نے تمام تر توجہ میڈیا اور خوشیاں منانے پر مرکوز رکھی"۔

قرقاش کے مطابق تنہائی اور بوکھلاہٹ کے گزشتہ ایک سال کے دوران دانش مندی کا فقدان رہا یہاں تک کہ قطر کا بحران ایک حقیقت بن گیا اور اس کے ساتھ باہمی بقاء آسان ہو گیا۔ اس بحران کو ہر کسی نے نظر انداز کر دیا سوائے ان لوگوں کے جو معاوضے کے ساتھ تعطیلات منانے پہنچیں گے۔

اماراتی وزیر کا کہنا تھا کہ "قطر کے بحران اور اس کی تنہائی کا ایک سال مکمل ہونے پر سامنے آنے والا سبق یہ ہے کہ عوام کے مفاد کو ایک ناممکن سیاسی آرزو پر ترجیح دی جائے۔ معاوضے کی ادائیگی کے ساتھ یہ میلے خریدی ہوئی بازگشت کے سوا کچھ نہیں۔ اہم چیز یہ ہے کہ آپ اپنے پڑوسیوں کو تکلیف اور ضرر سے بچا کر انہیں خرید لیں۔ یہ دانش مندی آسان ہے اور اس میں کوئی لاگت بھی نہیں"۔