سرکردہ ایرانی مذہبی پیشوا کا نواسہ بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا ملزم قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران میں منگل کے روز بچوں کی ہراسیت کے نئے اسکینڈل نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس اسکینڈل میں دارالحکومت تہران کے ایک اسکول کا پرنسپل ملوث ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق وہ ایرانی مجلس خبرگان رہبری کے سابق رکن اور مذہبی مرجع آیت اللہ محی الدین حائری شیرازی کا نواسہ ہے۔

ایرانی کارکنان اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ملزم کے خلاف عدالتی کارروائی کا ایک وڈیو کلپ گردش میں لایا گیا ہے۔ اس دوران جج کے دفتر کے سامنے طلبہ کے اہل خانہ اور بچوں کی ماؤں نے جمع ہو کر مذکورہ پرنسپل کے خلاف نعرے بازی کی۔ بعد ازاں پولیس نے مداخلت کر کے ان مشتعل افراد کے دھاوے کو روکا۔

یہ معاملہ سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ پھیل گیا جہاں سرگرم کارکنان نے ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے منظور نظر قاری سعید طوسی کے مقدمے کا ذکر کیا۔ ایرانی عدلیہ نے رواں برس جنوری میں طوسی کو اپنے شاگردوں میں شامل 19 بچوں (جن کی عمر 12 سے 14 برس تھی) سے بدفعلی کے الزام سے بری کر دیا تھا۔ کارکنان کے مطابق اس بات کا اندیشہ ہے کہ دوسرا ملزم یعنی اسکول کا پرنسپل بھی طوسی کی طرح سزا سے بچ نکلے گا۔ اس کے سبب کارکنان نے اعلانیہ عدالتی کارروائی کے مطالبے کے لیے مہم چلائی ہے۔

دوسری جانب ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای نے حکم جاری کیا ہے کہ مذکورہ پرنسپل کے خلاف فوری عدالتی کارروائی عمل میں لائی جائے اور الزام ثابت ہونے کی صورت میں اس پر حد جاری کی جائے۔

ایران میں متعدد ذرائع ابلاغ نے پیر کے روز بتایا تھا کہ تہران میں لڑکوں کے ایک ہائی اسکول کے ذمّے دار نے طلبہ کے ایک گروپ کو جنسی فلمیں دکھا کر اُن پر جنسی حملہ کیا اور طلبہ کو اپنے ساتھ اور ایک دوسرے کے ساتھ جنسی فعل کے ارتکاب پر مجبور کیا۔

تہران میں جنرل پراسیکیوٹر عباس جعفری دولت آبادی کے مطابق ملزم کے خلاف 15 طلبہ کے گھرانوں نے شکایت داخل کی ہے۔ دولت آبادی نے مزید بتایا کہ ملزم نے تحقیقات کے دوران اعتراف کیا کہ اُس نے اپنے موبائل فون کے ذریعے بچوں کو بعض جنسی وڈیو کلپ دکھائے تھے تاہم اُس نے بچوں کو ہراساں کرنے یا ان کے ساتھ زیادتی کرنے کی تردید کی۔

دوسری جانب تہران کے متعلقہ ریجن کے ڈائریکٹر ایجوکیشن ناصر کوہستانی نے اِلنا نیوز ایجنسی کو بتایا کہ تعلیمی کونسل مذکورہ اسکول کے کام کو روک دینے کا فیصلہ کرے گی۔

واضح رہے کہ ایرانی رہبر اعلی کے پسندیدہ ترین قاری سعید طوسی (46 سالہ) کے معاملے کے بعد معلّْمین کی جانب سے بچوں کی جنسی ہراسیت کا یہ دوسرا اسکینڈل ہے۔ علی خامنہ ای کا منظور نظر سعید طوسی بین الاقوامی مقابلوں میں ایران کی نمائندگی کر کے کئی مرتبہ ملکی اور بیرونی سطح پر اول پوزیشن حاصل کر چکا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اصلاح پسند رکن محمود صادقی نے عدلیہ کی جانب سے طوسی کو بری کیے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے اس فیصلے کو "ظلم" قرار دیا تھا۔ صادقی کے مطابق شواہد اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ بچوں کو ہراسیت کا نشانہ بنانے والے (قرآن کے) اس معلّم کو ایرانی رہبر اعلی کے دفتر کی با اثر شخصیات کی حمایت حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں