فرانسیسی صدر کے بیان کے بعد سعد حریری ایک بار پھر سعودی عرب میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنانی وزیراعظم سعد حریری سعودی عرب روانہ ہو گئے جہاں وہ چند روز قیام کریں گے۔ یہ بات حریری کے دفتر کی جانب سے منگل کے روز جاری ایک بیان میں بتائی گئی۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس ریاض میں وزارت عظمی سے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد یہ حریری کا سعودی عرب کا دوسرا دورہ ہے۔

لبنان میں نو برس بعد پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے بعد سعد حریری کو چند روز قبل تیسری مرتبہ حکومت تشکیل دینے کی ذمے داری سونپی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 6 مئی کو ہونے والے حالیہ انتخابات میں سعد حریری کے المستقبل گروپ نے اپنی ایک تہائی پارلیمانی نشستیں کھو دیں۔ اس کے مقابل حزب اللہ اور اس کے حلیفوں نے نمایاں کامیابی کویقینی بنایا۔

حریری نے دسمبر 2016ء سے لبنان کی وزارت عظمی کا منصب سنبھالا ہوا ہے۔ ان کی پہلی حکومت کی تشکیل 2009ء میں ہوئی تھی جو 2011ء تک جاری رہی۔

لبنانی وزیراعظم کا حالیہ دورہ فرانسیسی صدر کی جانب سے چند روز قبل دیے گئے بیان کو غلط ثابت کرنے کے لیے کافی ہے جس میں امانوئل ماکروں نے کہا تھا کہ سعد حریری سعودی عرب میں یرغمال تھے۔

سعودی وزارت خارجہ کے ایک ذمّے دار ذریعے نے منگل کے روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ فرانسیسی صدر نے "BFM" ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب نے لبنانی وزیراعظم سعد حریری کو یرغمال بنا رکھا ہے، تاہم امانوئل ماکروں کا یہ دعوی درست نہیں۔

مذکورہ ذریعے کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ہمیشہ سے لبنان کے امن و استحکام کو سپورٹ کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا اور مملکت تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے وزیراعظم حریری کو سپورٹ کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں