فرانس : مسلم اسپائڈر مین کے ہاتھوں بچ جانے والے بچّے کے باپ کو جیل کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس میں دو روز قبل عمارت کی چوتھی منزل کی بالکونی سے لٹکنے والے بچے کے باپ کے حوالے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ حادثے کے وقت گھر سے باہر "پوکیمون گو" گیم کھیلنے میں مصروف تھا۔ چار سالہ بچّے کو افریقی ملک مالی سے تعلق رکھنے والے ایک تارک وطن نوجوان نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچا لیا تھا۔ تارکِ وطن کو اس دلیرانہ کارنامے پر "مسلم اسپائیڈر مین" کا خطاب دیا گیا اور فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں نے اسے فرانسیسی شہریت اور محکمہ فائر بریگیڈ میں ملازمت کی پیش کش بھی کردی۔

اس واقعے کی فوٹیج ریکارڈ کی گئی تھی اور اس کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیا گیا، وڈیو کو لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے دیکھا ہے۔ اس مالی تارک وطن نوجوان کی شناخت "مامودو قساما" کے نام سے کی گئی ہے۔ اس کی عمر 22 سال بتائی گئی ہے۔

فرانس کے پراسیکیوٹر فرانسوا مولینز نے پیر کے روز BFM ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ بچّے کا باپ اپنے بیٹے کو گھر میں اکیلا چھوڑ کر بازار میں سودا سلف لینے چلا گیا تھا اور پھر دکان سے نکل کر پوکیمون گو گیم کھیلنے لگ گیا۔ مولینز کے مطابق بچے کے باپ کو دو برس تک کی جیل کا سامنا ہے اس لیے کہ اس نے بطور والد اپنی ذمے داری پوری نہیں کی۔

فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں نے پیر کے روز الیزے پیلس میں مامودو قساما سے ملاقات کی تھی اور اسے بہادری کے امتیازی مظاہرے کے سبب ایک سرٹفکیٹ اور سونے کا تمغہ پیش کیا۔

مامودو قساما نے BFM ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ "اللہ کا شکر ہے ، میں نے اس بچے کو بچا لیا۔ میں بچوں سے بہت پیار کرتا ہوں اور انھیں کسی بھی مشکل صورت حال میں نہیں دیکھ سکتا"۔ قساما کے مطابق وہ فٹبال میچ دیکھنے کے لیے اس علاقے میں موجود تھا کہ اس دوران لوگوں کا مجمع نظر آیا۔ اس نے جوں ہی اس بچے کو دیکھا تو اس کو بچانے کی ٹھان لی اور ہمت کر کے ہاتھوں اور بازوؤں کے بل پر اوپر چڑھ گیا اور چوتھی منزل پر اس بچے کو بہ حفاظت بچالیا۔

پیرس کی میئر این ہائیڈرلگو نے مامودو قساما سے ملاقات کی ہے اور ان کا بچے کی جان بچانے پر شکریہ ادا کیا ہے۔انھوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ یہ تارکِ وطن چند ماہ قبل ہی مالی سے پیرس میں آیا تھا۔

انھوں نے یہ عبارت ٹویٹ کی : "اس نے مجھے بتایا کہ وہ مالی سے چند ماہ قبل ہی بہتر مستقبل کی تلاش میں یہاں آیا تھا۔ میں نے اس کو یہ جواب دیا ہے کہ اس کا دلیرانہ کارنامہ تمام شہریوں کے لیے ایک مثال ہے۔ پیرس شہر یقینی طور پر اس کی فرانس میں مقیم ہونے کے لیے کوششوں کی حمایت کرے گا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں