فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد کا فائر بندی کا اعلان ، اسرائیل کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران غزہ پٹی سے جنوبی اسرائیل کی جانب 100 کے قریب راکٹ داغے جانے کے بعد اسرائیل نے عندیہ دیا ہے کہ اگر جارحیت کا سلسلہ جاری رہا تو وہ حماس اور دیگر فلسطینی تنظیموں کے رہ نماؤں کو ہلاک کرنے کی پالیسی کا سہارا لے گا۔

دوسری جانب فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد نے منگل کے روز اعلان کیا کہ اسرائیل کے ساتھ فائر بندی ہو گئی ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ فلسطینی گروپس 2014ء کے معاہدے کے مطابق غزہ میں پرسکون رہیں گے بشرط یہ کہ اسرائیل بھی ایسا ہی کرے۔ اسلامی جہاد کے ترجمان داؤد شہاب نے بتایا کہ ان کی تنظیم اور حماس کے ساتھ مصری رابطوں کی روشنی میں سال 2014 کی فائر بندی کی مفاہمت کو مضبوط بنانے پر موافقت طے پا گئی ہے۔

یاد رہے کہ 2014ء میں بھی مصر نے فائر بندی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا جس نے اسرائیل اور فلسطینی گروپوں کے درمیان سات ہفتوں سے جاری جنگ کو اختتام تک پہنچا دیا۔

اسلامی جہاد کا کہنا ہے کہ اگر جارحیت کا سلسلہ جاری رہا تو وہ اسرائیل کو گہرائی میں جا کر نشانہ بنانے کی قدرت رکھتی ہے۔

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ایجنسی نے ایک اسرائیلی ذمّے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ میں فائر بندی سے متعلق خبر درست نہیں ہے۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب غزہ پٹی میں حماس تنظیم کے 25 "عسکری اہداف" کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی غزہ پٹی سے اسرائیل کی جانب میزائل اور راکٹ داغے جانے کے جواب میں کی گئی۔

نشانہ بنائے گئے اہداف میں راکٹ تیار کرنے والے ورکشاپس، جاسوس طیاروں کے خفیہ گودام اور عسکری تنصیبات شامل ہیں۔

اسرائیل نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ پٹی میں حماس اور اسلامی جہاد کے 35 سے زیادہ عسکری اہداف کو حملوں کا نشانہ بنایا۔

غزہ پٹی سے جنوبی اسرائیل کی جانب راکٹ داغے جانے کے بعد امریکا نے عالمی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے مطابق یہ اجلاس بدھ کی دوپہر منعقد ہو گا۔

اقوام متحدہ میں امریکی خاتون سفیر نکی ہیلی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "غزہ سے ہونے والے حالیہ حملے 2014ء کے بعد سب سے بڑی کارروائی ہے۔ فلسطینیوں کی جانب سے داغے جانے والے مارٹر گولوں نے شہری تنصیبات کو نقصان پہنچایا جن میں بچوں کی نرسری شامل ہے"۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بے قصور اسرائیلی شہریوں کے خلاف تشدد کی اس تازہ ترین لہر پر ردّ عمل کا اظہار کرے۔

امریکی خاتون سفیر نے زور دیا کہ غزہ کے واقعات رونما ہونے کی اجازت دینے پر فسلطینی قیادت کا محاسبہ ہونا چاہیے۔

اس سے قبل حماس اور اسلامی جہاد تنظیموں نے منگل کی شب ایک مشترکہ بیان میں اسرائیلی جارحیت کے جواب میں صہیونی ریاست پر درجنوں راکٹ داغنے کی ذمّے داری قبول کی تھی۔

سال 2014 میں غزہ پٹی کی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب دونوں تنظیموں نے اعلانیہ طور پر مشترکہ حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔

ادھر اسرائیلی فوج کے ترجمان نے باور کرایا ہے کہ ان کی فوج اُس وقت تک غزہ کے محاذ پر چڑھائی نہیں روکے گی جب تک ان کے بقول "دہشت گردی" کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ترجمان کا اشارہ فلسطینی گروپوں کی جانب سے جنوبی اسرائیل کی جانب راکٹ باری کی طرف تھا۔ منگل کی شام ایک پریس کانفرنس میں اسرائیلی ترجمان نے حماس تنظیم کی قیادت کو ہلاک کرنے کی دھمکی بھی دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں