.

امریکا عراق سے سبق سیکھے،اس کو شام سے جانا ہوگا: بشارالاسد

ایس ڈی ایف کے زیر قبضہ علاقوں کو مذاکرات یا پھر بزور طاقت واپس لیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ امریکا کو عراق سے سبق سیکھنا چاہیے اور اس کو شام کو خالی کردینا چاہیے۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) کے زیر قبضہ علاقوں کو مذاکرات یا پھر طاقت کے ذریعے واپس لیا جائے گا۔

انھوں نے رشیا ٹوڈے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’حکومت نے ایس ڈی ایف کے ساتھ مذاکرات کا باب کھول دیا ہے۔یہ پہلا آپشن ہے ۔اگر اس نے کام نہ کیا تو پھر ہم بہ زور طاقت ان علاقوں کو آزاد کرائیں گے۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے۔امریکیوں کو واپس چلے جانا چاہیے اور انھیں واپس جانا ہی ہوگا‘‘۔

شامی صدر نے کہا:’’ وہ (امریکی) عراق میں کسی قانونی جواز کے بغیر آئے تھے ۔ وہاں دیکھیے ان کے ساتھ کیا ہوا ۔انھیں سبق سیکھنا چاہیے۔عراق اورشام کوئی استثنا نہیں ہے۔لوگ اس خطے میں غیر ملکیوں کو قبول نہیں کریں گے‘‘۔

جب ان سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انھیں ’’جانور اسد‘‘ کا خطاب دینے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا:’’ آپ جو کچھ کہتے ہیں،اس سے پتا چلتا ہے کہ آپ کون ہیں؟‘‘ صدر ٹرمپ نے شامی دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع شہر دوما پر اپریل میں کیمیائی ہتھیاروں کے ایک حملے کے بعد بشارالاسد کو جانور قرار دیا تھا۔

بشارالاسد نے اپنی حکومت کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ اس نے مشرقی الغوطہ میں واقع شہر دوما پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ نہیں کیا تھا۔ان کے بہ قول حکومت کے پاس تو کیمیائی ہتھیا ر ہی نہیں ۔پھر اس طرح کے حملے کرنا اس کے مفاد میں بھی نہیں ہوگا۔

دوما میں اس کیمیائی حملے کے بعد امریکا ، برطانیہ اور فرانس نے شام میں میزائل حملے کیے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے بشارالاسد کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کو نشانہ بنایا تھا۔

ایران کی موجودگی کی تصدیق

بشارالاسد نے روس اور ایران کی فوجی مدد سے باغیوں کے زیر قبضہ بہت سے علاقے واپس لے لیے ہیں اور وہ ملک میں 2011ء سے جار ی خانہ جنگ کے بعد پہلی مرتبہ فوجی لحاظ سے ناقابل شکست ہوچکے ہیں ۔

تاہم عراق ، ترکی اور اردن کی سرحدوں کے نزدیک واقع بہت سے علاقے اب بھی ان کی حکومت کی عمل داری سے باہر ہیں اور ا ن پر مختلف گروپوں کا قبضہ ہے۔شام کے شمال مغرب اور مشرق میں بعض علاقوں پر ایس ڈی ایف کا کنٹرول ہے۔شمال مغرب اور جنوب مغرب میں بعض علاقوں پر باغی گروپوں کا قبضہ ہے۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اور اس کی حمایت یافتہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سمیت دوسری ملیشیاؤں نے بشارالاسد کی حمایت میں باغیوں کے خلاف لڑائی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انھوں نے شامی فوج کے شانہ بشانہ لڑ کر شامی باغیوں کے زیر قبضہ بہت سے شہر اور علاقے بہ زور طاقت واپس لے لیے ہیں۔

بشارالاسد کا کہنا تھا کہ شام میں ایران کی موجودگی صرف افسروں تک محدود ہے اور وہ شامی فوج کی معاونت کررہے ہیں۔انھوں نے اسرائیل کے 10 مئی کو شام کے ایک فوجی اڈے پر فضائی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بہت سے شامی فوجی مارے گئے تھے لیکن کوئی ایک بھی ایرانی ہلاک نہیں ہوا تھا۔

ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا شام اسرائیل کے فضائی حملے روک سکتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’’ایسا ہم صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھا کر ہی کرسکتے ہیں اور ہم ایسا ہی کررہے ہیں۔اب شا م کا فضائی دفاعی نظام روس کی مدد سے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور بہتر ہے‘‘۔